Al-Risala · August 2011 · page 38

ہندوستان میں خصوصی مواقع

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۳۸

اہل جنت کے لیے خدا کی طرف سے ہر قسم کے آرام و راحت کا سامان فراہم کیا جائے گا، یہاں تک کہ اُن کی تمام خواہشیں کامل فل فل منٹ (total fulfilment) کے درجے میں پوری ہونے لگیں۔ معرفت کا ابدی سفر وہ کون خوش نصیب لوگ ہوں گے جو آخرت کی روحانی تہذیب (spiritual civilization) کو ظہور میں لائیں گے اور تخلیق میں خدائی عجائب کو اُن فولڈ (unfold) کرنے کا ابدی رول ادا کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اس انوکھی صلاحیت کا ثبوت دیں کہ وہ دنیا کے محدود حالات میں معرفتِ خداوندی کی دریافت کی آخری حد تک پہنچیں۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو اُن کو اس کا اہل ثابت کرے گی کہ وہ آخرت کے لامحدود حالات میں خدائی معرفت کی دریافت کا ابدی سفر طے کریں۔ ساتویں صدی عیسوی میں بنو اسماعیل کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کے اصحاب بن کر روایتی دور میں وہ عمل (process) جاری کریں جو آخر کار جنت کی روحانی تہذیب (spiritual civilization) تک پہنچنے والا تھا۔

بنو اسماعیل کی وہ صفت کیا تھی جس کی بنا پر وہ اصحابِ رسول کا درجہ پانے کے مستحق قرار پائے، اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ قدیم مکہ میں قبائل قریش کے جو لوگ تھے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، حق کے متلاشی تھے۔ روایات میں ایسے لوگوں کو حنفاء کہا گیا ہے، یعنی متلاشی۔ انھیں حنفاء میں سے ایک زید بن عمر بن نُفیل تھے۔ اسماء بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ میں نے زید بن عمر بن نُفیل کو دیکھا ہے۔ وہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے: اللهم إنّى لو أعلم أحبّ الوجوه إليك، عبدتك به، ولكنى لا أعلم (السيرة النبوية لابن كثير، 1/154) یعنی اے اللہ، اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے تو میں اُسی طرح تیری عبادت کرتا، مگر میں اس طریقے کو نہیں جانتا۔

یہ ایک شخصی واقعہ نہیں، یہ دراصل بنو اسماعیل کی عمومی صفت کی ایک شخصی نمائندگی ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے بنو اسماعیل قبل از اسلام کی مذہبی روایات میں آخری حد تک پہنچ چکے تھے، اس لیے اللہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page