روزہ اور تزکیہ نفس
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۴۱
روزہ اور تزکیہ نفس
یہ ایک واقعہ ہے کہ روزہ تزکیہ نفس (purification of soul) کا ذریعہ ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ روزہ رکھنے سے پُراسرار طور پر اپنے آپ آدمی کا تزکیہ ہو جاتا ہے۔ تزکیہ نفس ایک شعوری واقعہ ہے، نہ کہ کوئی پراسرار واقعہ۔ روزہ آٹومیٹک طور پر کسی کا تزکیہ نہیں کرتا۔ تزکیہ کا عمل ایک شعوری پراسس (process) کے ذریعے طے ہوتا ہے اور روزہ اس پراسس کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ تزکیہ ایک نتیجہ کا نام ہے۔ اس نتیجہ سے پہلے ایک پریپریٹری کورس (preparatory course) درکار ہے۔ جہاں یہ ابتدائی کورس نہ پایا جائے، وہاں نتیجہ بھی نہیں پایا جائے گا۔ روزہ دراصل اسی قسم کا ایک پریپریٹری کورس ہے، روزہ اپنے آپ ایک مطلوب نتیجہ نہیں۔
اس پریپریٹری کورس کا عمل ایک صاحب ایمان کے اندر ہر روز جاری رہتا ہے۔ مثلاً وہ شخص جس کو شعوری ایمان حاصل ہو، وہ ہر روز مختلف تجربات کے درمیان اپنے عجز کو دریافت کرتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر اس کی توجہ اپنے دل کی طرف جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ دل اگر مسلسل پمپنگ کا کام نہ کرے تو میں ایک لمحے کے اندر مر جاؤں گا۔ دل کی یہ پمپنگ مشین میں اپنے ارادے سے نہیں چلاتا ۔ یہ خدا کا ایک داخلی تصرف ہے جو اس کو مسلسل طور پر بلا وقفہ چلا رہا ہے۔ یہ مشین اگر دومنٹ کے لیے بھی رک جائے تو یقینی طور پر میری موت واقع ہو جائے گی۔ یہی سانس کا معاملہ ہے۔ انسان ہر وقت سانس لیتا ہے۔ سانس کا مطلب ہے ہوا کے ذریعے آکسیجن کو اِن ہیل (inhale) کرنا اور اندر کے کاربن کو ایکس ہیل (exhale) کرنا، یعنی آکسیجن کو لینا اور کاربن کو باہر نکالنا۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو بلا وقفہ جاری رہتا ہے، مگر اس میں میرے ارادے کو کوئی دخل نہیں، وہ تمام تر خدا کے ایک داخلی نظام کے تحت ہوتا ہے۔ یہ دونوں واقعات ہر شخص کی زندگی میں ہر لمحہ پیش آتے ہیں۔ جس آدمی کا شعور زندہ ہو، وہ ان واقعات پر غور کرے گا۔ اس طرح وہ ہر لمحہ اپنے عجز کو دریافت کرتا رہے گا۔ یہ صرف دل کی حرکت یا نظام تنفس کی بات نہیں، اس طرح کے ہزاروں واقعات ہیں جو ہر انسان کے ساتھ ہر لمحہ پیش آتے رہتے ہیں۔ مگر
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues