روزہ اور تزکیہ نفس
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۴۲
عام طور پر انسان غفلت کی حالت میں رہتا ہے، اس لیے وہ اپنے ان تجربات سے عجز کی غذا نہیں لے پاتا۔ غافل انسان کی اِسی غفلت کو توڑنے کے لیے سال میں ایک مہینے کا روزہ رکھا گیا ہے۔ روزے کی حیثیت گویا ایک کمپلسری کورس (compulsory course) کی ہے۔ کھانا اور پانی انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ روزے کے مہینے میں ان بنیادی ضرورتوں پر روک لگا کر ایک لازمی تجربہ کرایا جاتا ہے۔ روزے کا مہینہ گویا ایک کمپلسری روٹین (compulsory routine) ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان کو ایک پابند کورس کے ذریعے عجز وافتقار کا لازمی تجربہ کرایا جائے، تاکہ وہ تزکیہ کے مراحل طے کرنے کے قابل ہو سکے۔ جو لوگ اس طرح روزہ رکھتے ہیں کہ وہ سحری کے وقت اتنا زیادہ کھاتے ہیں کہ شام ہونے تک انھیں بھوک نہ لگے، اُن کا روزہ روزہ نہیں، بلکہ ایک خود ساختہ عمل کے ذریعے صرف روزے کا فرضی کریڈٹ لینے کی کوشش ہے جو کبھی کسی کو نہیں ملتا۔ روزے کا مقصد آدمی کو بھوک پیاس کا تجربہ کرانا ہے اور جس روزے دار کو بھوک پیاس کا تجربہ ہی نہ ہو، اس کو روزے کا مطلوب فائدہ کیوں کر حاصل ہوگا۔ ضروری ہے کہ آدمی کو بھوک لگے، وہ بھوک سے تڑپے، یعنی اس کی وہ کیفیت ہو جائے جو پانی کے بغیر زندہ مچھلی کی ہوتی ہے۔ جب کسی شخص کو اس طرح بھوک اور پیاس کا شدید تجربہ ہو، اس کے بعد ہی اس کے اندر وہ اعلیٰ ایمانی کیفیت پیدا ہوگی جس کو تضّرع کہا گیا ہے۔ اِسی طرح شکر ایک اعلیٰ ترین کیفیت ہے۔ لیکن شکر کی حقیقی کیفیت بھی اُسی شخص کے اندر پیدا ہوگی جو پہلے شدید محرومی کا تجربہ کرے اور اس کے بعد اس کو یافت کا تجربہ حاصل ہو۔ اس کے بعد ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ شکر کی دریافت کرتا ہے، یعنی انعام کے بعد منعم کی معرفت۔ یہی شکر ہے اور بلاشبہ شکر سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ روزہ ایک مہینے تک مسلسل اِسی اعلیٰ حقیقت کا تجربہ کراتا ہے۔ ایک طرف وہ دن کے روزے کی شکل میں انسان کے اندر گہرائی کے ساتھ تضّرع کی کیفیت پیدا کرتا ہے، پھر بھوک پیاس کے تجربے سے گزر کر شام کو وہ آزادی کے ساتھ کھاتا اور پیتا ہے۔ اس طرح وہ دریافت کرتا ہے کہ کھانا اور پانی اس کے وجود کے لیے کتنا زیادہ ضروری ہے۔ یہی دریافت جب ربانی کیفیت میں ڈھل جائے تو اسی کا نام شکر ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues