Al-Risala · August 2011 · page 47

اعتکاف کی دو قسمیں

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۴۷

اعتکاف کی دو قسمیں

ایک اعتکاف وہ ہے جو رمضان کے مہینے میں مسجد کے اندر کیا جاتا ہے۔ اس اعتکاف کا ذکر قرآن کی سورہ البقرہ میں ان الفاظ میں آیا ہے: وأنتم عاكفون فى المساجد (187 :2)۔ دوسرا اعتکاف فکری اعتکاف (intellectual seclusion) ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ: کان رسول الله صلى الله عليه وسلم متواصل الأحزان، دائم الفكرة (الشمائل للترمذي، رقم الحديث: (225) اس سے مراد یہی فکری اعتکاف ہے، یعنی خاموشی کے ساتھ سوچتے رہنا۔

مسجد کا اعتکاف منم (minimum) اعتکاف ہے۔ اس کے برعکس، ذہنی اعتکاف میکسیمم (maximum) اعتکاف ۔ صحابہ کے درمیان اس ذہنی اعتکاف کا عام رواج تھا۔ بعض صحابہ کے بارے میں صراحتہ اس کی مثال ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ابو الدرداء انصاری کے بارے میں اُن کی وفات کے بعد اُن کی اہلیہ ام الدرداء سے پوچھا گیا کہ ابو الدرداء کی خاص عبادت کیا تھی۔ ام الدرداء نے جواب دیا کہ — التفکر والإعتبار، یعنی غور کرنا اور نصیحت پکڑنا۔

یہ فکری اعتکاف وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں — تفکر، تدبر، تذکر، توسم اور تعقل، وغیرہ ۔ اس سے مراد ہے چیزوں پر سوچنا۔ سوچنے کا یہ عمل بے حد اہم ہے۔ سوچنے کے عمل سے تمام اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً حکمت، معرفت، ذہنی ارتقا، ازدیاد ایمان، گہرے معانی کی دریافت، وغیرہ۔

یہ فکری اعتکاف کسی مومن کے لیے بے حد اہم ہے۔ مگر اس کی ایک لازمی شرط ہے۔ اور وہ ہے، ہر قسم کے ڈسٹریکشن (distraction) سے اپنے آپ کو بچانا۔ اس کے بغیر فکری اعتکاف کسی آدمی کے لیے ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی اعتکاف ایک مسلسل فکری عمل کا نام ہے۔ اسی فکری عمل سے وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو قرآن میں ازدیاد ایمان کہا گیا ہے۔ فکری عمل نہیں، تو ازدیاد ایمان بھی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page