Al-Risala · August 2011 · page 46

روزہ اور تزکیہ نفس

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۴۶

أجير وفي عمله. قالوا: ربنا، جزائه أن يُوفّى أجرَهُ. قال: ملائكتي، عبيدي وإمائي قضوا فريضتي عليهم، ثمّ خرجوا يعجون إلى الدّعاء، وعزّتي وجلالي وكرمي وعُلُوّي وارتفاع مكاني لأجيبنّهم. فيقول: ارجعوا فقد غفرتُ لكم، وبدّلتُ سيّئاتكم حسنات. قال: فيرجعون مغفوراً لهم. (رواه البيهقي في شعب الإيمان، باب الصيام، فصل في ليلة العيد ويومهما) یعنی جب عید کا دن آتا ہے، یعنی عید الفطر کا دن، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے روزے دار بندوں اور بندیوں پر فخر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے میرے فرشتو، اُس کی جزا کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کر دیا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، اُس کی جزا یہ ہے کہ اُس کو اُس کے عمل کا پورا بدلہ دے دیا جائے۔ خدا کہتا ہے کہ اے میرے فرشتو، میرے بندوں اور میری بندیوں نے میرے اِس فرض کو ادا کر دیا جو اُن پر عائد تھا، پھر وہ نکلے ہیں دعا کے ساتھ مجھ کو پکارتے ہوئے۔ میری عزت اور میرے جلال کی قسم، میرے کرم، میرے علوشان اور میرے بلند مقام کی قسم، میں ضرور اُن کی پکار کو سنوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: تم لوگ واپس جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمھارے سیّات کو حسنات میں تبدیل کر دیا۔ پس وہ لوگ اِس طرح لوٹتے ہیں کہ اُن کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے۔ روزہ بظاہر ایک مہینے کے لیے ہوتا ہے، لیکن اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے وہ پورے سال کے لیے، بلکہ پوری عمر کے لیے مطلوب ہے، حتیٰ کہ اُن لوگوں کے لیے بھی جو کسی شرعی عذر کی بنا پر روزہ رکھنے کے قابل نہ رہیں، اُن سے بھی یہ اسپرٹ والا روزہ ہمیشہ مطلوب رہے گا، یعنی یہ کہ آدمی روزمرہ کے واقعات اور مختلف تجربات کے درمیان اپنے عجز و افتقار کو دریافت کرتا رہے۔ یہی روزہ کی اصل حقیقت ہے۔ جو آدمی اِس معنی میں مسلسل روزہ دار بنا رہے، وہ ہمیشہ روزہ کے فائدے کو حاصل کرتا رہے گا، روزے کا روحانی فائدہ کبھی اس سے منقطع ہونے والا نہیں۔

ماہ نامہ الرسالہ اور مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز کتابیں حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: Rahbar Book Service C-24, Shaheen Bagh, Thokar No. 8, Tayyib Masjid Road Jamia Nagar, Okhla, New Delhi-110025 Mob.: 09810862382, 09716048296

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page