محبتِ الہیٰ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲
محبتِ الہیٰ
قرآن میں اہل ایمان کی ایک بنیادی صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: والذین امنوا اشدّ حبّا للہ (165 (2) یعنی جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں، وہ سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھنے والے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں اہل ایمان سے مراد اہل معرفت ہیں۔ جو شخص دریافت کے درجے میں خدا کو پائے، وہ ایک صاحب معرفت انسان بن جاتا ہے، اور جو انسان صاحب معرفت ہو، اس کے جذبات تمام تر خدا کے ساتھ وابستہ ہو جائیں گے۔ خدا اس کے قلب و دماغ کا واحد مرکز بن جائے گا۔ انسان اپنی محدودیت کی بنا پر موجودہ دنیا میں خدا کو نہیں دیکھتا، لیکن وہ خدا کی رحمتوں کا ہر آن تجربہ کرتا ہے، اور یہی تجربہ محبت الہیٰ کا اصل سر چشمہ ہے۔ آدمی کو اس دنیا میں جو کچھ ملا ہوا، وہ سب کا سب خدا کی رحمت ہے۔ آدمی جتنا زیادہ ان ملی ہوئی چیزوں پر غور کرے گا، اتنا ہی زیادہ خدا کے ساتھ اس کی محبت بڑھتی چلی جائے گی۔ خدا سے محبت کا سر چشمہ انعام کی دریافت ہے، نہ کہ منعم کا مشاہدہ۔ انسان کو کس نے پیدا کیا، خدا نے۔ انسان کو مختلف قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں کس نے دیں، خدا نے۔ انسان کے لیے زمین جیسا ایک استثنائی سیارہ کس نے بنایا، خدا نے۔ انسان کے لیے یہاں لائف سپورٹ سسٹم کس نے قائم کیا، خدا نے۔ انسان کی تمام حاجتوں کی تکمیل کا انتظام کس نے کیا، خدا نے۔ انسان کو وہ دماغ کس نے دیا جو زمین پر رہتے ہوئے ساری کائنات کا احاطہ کر سکتا ہے، خدا نے۔ انھیں تمام انعام کے منعم کی دریافت کا نام معرفت ہے۔ کسی انسان کو جب یہ معرفت حقیقی معنوں میں حاصل ہو جائے تو اس کے اندر خدا سے محبت کا سر چشمہ ابل پڑتا ہے۔ اس کے دل کی گہرائیاں خدا کی محبت سے روشن ہو جاتی ہیں۔ خدا کی اطاعت بلاشبہ ایمان کا تقاضا ہے، لیکن یہ خدا سے محبت کی تصغیر ہے کہ اُس کو صرف اطاعت کے معنی میں لیا جائے ۔ اطاعت، خدا سے تعلق کا صرف ایک قانونی اظہار ہے، جب کہ محبت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا پورا وجود خدا کی یاد میں ڈھل گیا، انسان اپنی پوری ہستی کے ساتھ خدا کا اعتراف کامل کرنے والا بن گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues