Al-Risala · September 2011 · page 3

ایمان اور عمل صالح

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳

ایمان اور عمل صالح

آخرت کی کامیابی کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں ایمان اور عمل صالح ۔ چناں چہ قرآن میں تقریباً 60 بار یہ الفاظ آئے ہیں: الذین آمنوا وعملوا الصالحات یعنی جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیا (وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے)۔

ایمان باللہ کیا ہے ۔ ایمان باللہ فقہی اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی اپنی زبان سے یہ کہے کہ : آمَنْتُ باللہ (میں اللہ پر ایمان لایا)۔ لیکن یہ کہنا صرف زبان سے کچھ الفاظ بولنے کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ معرفت (realization) کے بعد اس کے شعوری اظہار کا نام ہے۔ جب آدمی اللہ کے بارے میں سوچتا ہے اور ہدایت کی دعا کرتا ہے تو اُس وقت وہ لمحہ آتا ہے جب کہ اس پر حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے اللہ کو دریافت کر لیا۔ اُس وقت جب اس کی دریافت لفظوں میں ڈھلتی ہے تو اسی کا نام ایمان باللہ ہے۔

عمل صالح کا لفظی ترجمہ نیک عمل ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے عمل صالح یہ ہے کہ آدمی کی داخلی دریافت خارجی عمل کی صورت اختیار کرلے، یعنی ایمان کے مطابق عمل ۔ جس سچائی کو اس نے ذہنی طور پر پایا ہے، وہ سچائی عملی طور (practically) پر اس کی زندگی میں شامل ہو جائے۔ ایمان اور عمل صالح ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ داخلی اعتبار سے اس کا نام ایمان باللہ ہے اور خارجی اعتبار سے اس کا نام عمل صالح۔

ایمان اور عمل صالح بظاہر دو الگ الگ الفاظ ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہی واقعہ کے دو پہلو ہیں، دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں حقیقی ایمان ہوگا، وہاں عمل صالح بھی ضرور پایا جائے گا۔ اور جہاں حقیقی عمل صالح ہوگا، وہاں ایمان بھی ضرور موجود ہوگا۔ الفاظ کے اعتبار سے بظاہر دونوں الگ الگ ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق موجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page