No absolute frame of reference exists.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۳۹
سوال و جواب سوال آپ نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا تھا کہ موجودہ زمانے میں دعوت کی نسبت سے دو بڑے کام ضروری ہیں—— جدید سٹائنسی دریافتوں کا اسلام کے ساتھ تعلق ثابت کرنا، اور عصری اسلوب میں اسلام کا تعارف۔ براہِ کرم، ان دونوں پہلوؤں کی وضاحت فرمائیں (ابوالحکم محمد دانیال، پٹنہ، بہار) جواب موجودہ زمانے میں دعوتِ اسلام کی نسبت سے دو بڑے کام مطلوب ہیں۔ ان دونوں کاموں کی انجام دہی کے بغیر موجودہ زمانے میں دین کا اظہار نہیں ہو سکتا۔ وہ دو کام یہ ہیں: 1- جدید علمی دریافتوں کا اسلام کے ساتھ ریلیونس (relevance) بتانا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے جو نئی علمی حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں، وہ اسلام کی حقانیت کو از سرِ نو مدلّل کرتی ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ دریافتیں اسلام سے الگ معلوم ہوتی ہیں، لیکن جب اُن کو اسلامی عقائد سے وابستہ کر کے دیکھا جائے تو وہ اسلام کے حق میں ایک مسلّمہ علمی دلیل بن جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر مشہور برٹش سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) کی دریافت کردہ سنگل اسٹرنگ تھیوری (single-string theory) عقیدۂ توحید کے لیے ایک قطعی سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اِسی طرح ایک اور مثال مشہور جرمن سائنس داں آئن سائن (وفات: 1955) کا نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) ہے۔ نظریہ اضافیت بتاتا ہے کہ انسانی علم کی نسبت سے یہاں کوئی مطلق فریم ورک موجود نہیں:
No absolute frame of reference exists.
یہ سائنسی دریافت اسلام کی نسبت سے بہت اہم ہے۔ یہ دریافت اسلام کے عقیدۂ وحی کے حق میں سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس دریافت کے مطابق، انسان علمِ کلی تک نہیں پہنچ سکتا، جب کہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues