Al-Risala · January 2011 · page 40

No absolute frame of reference exists.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۴۰

علمِ کلی کا حصول انسان کے لیے بے حد ضروری ہے۔ اس طرح یہ نظریہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کو علمِ کلی تک پہنچنے کے لیے وحی (رسالت) پر اعتماد کرنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ کی دریافت اگر عقیدۂ توحید کے لیے علمی بنیاد فراہم کرتی ہے، تو آئن اسٹائن کی دریافت عقیدۂ رسالت کے حق میں علمی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا کہ جدید سائنس اسلام کا جدید علمِ کلام (theology) ہے۔ 2۔ دوسرا اہم کام یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو اس طرح بیان کیا جائے کہ وہ جدید دور سے ریلیونٹ (relevant) معلوم ہونے لگے۔ بظاہر اسلام کی تعلیمات الگ ہیں اور جدید دور کے تقاضے الگ۔ لیکن جب اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب (modern idiom) میں بیان کر دیا جائے تو وہ پوری طرح جدید دور سے ریلیونٹ دکھائی دینے لگے گی۔ ہمارے ادارے سے چھپا ہوا پورا لٹریچر اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اگر اس کو مختلف زبانوں میں چھاپ کر دنیا میں پھیلا دیا جائے تو ان شاء اللہ یہی لٹریچر وقت کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو جائے گا۔ سوال بخاری کی ایک حدیث ہے کہ ”دوزخ سال میں دو بار سانس لیتی ہے۔ ایک بار وہ اندر سانس لیتی ہے، یعنی کھینچتی ہے اور ایک بار وہ اس کو باہر چھوڑتی ہے۔ جب وہ سانس اندر لیتی ہے تو زمین پر سردی پڑتی ہے اور جب وہ باہر چھوڑتی ہے تو زمین پر گرمی پڑتی ہے۔ “ سائنسی تحقیقات کی روشنی میں یہ حدیث سمجھ میں نہیں آتی۔ امسال (2009) سردی پڑی ہی نہیں۔ ایسی حالت میں یہ حدیث ایک معمہ سے کم نظر نہیں آتی۔ براہِ کرم، اس حدیث کے بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔ (شعیب اعظم، بھوپাল) جواب صحیح البخاری کی یہ روایت تمثیل کی زبان میں ہے۔ یہ روایت نصیحت کے لیے ہے، نہ کہ بیانِ واقعہ کے لیے۔ اصل یہ ہے کہ جہنم میں سخت سردی بھی ہے اور سخت گرمی بھی۔ مذکورہ روایت کا مطلب یہ ہے کہ جب تم کو سخت سردی کا تجربہ ہو تو تم یاد کرو کہ جب دنیا کی سردی اتنی تکلیف دہ ہے تو جہنم کی سردی کتنی زیادہ تکلیف دہ ہوگی۔ اسی طرح جب تم کو دنیا کی گرمی کا تجربہ ہو تو تم سوچو کہ جب دنیا کی گرمی اتنی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page