Al-Risala · September 2011 · page 13

اللہ ہمارے دلوں میں

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۳

اللہ ہمارے دلوں میں

مولاناعبدالباسط عمری قطر میں رہتے ہیں۔ و ہمارے دعوتی مشن سے وابستہ ہیں۔ وہ سی پی ایس (نئی دہلی) میں ہونے والے ہفتے وار لیکچر کو بذریعہ انٹرنیٹ پابندی کے ساتھ سنتے ہیں۔ انھوں نے ہمارے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی کو ٹیلی فون پر اپنا ایک تاثر بتایا۔ یہ تاثر اُنھیں کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے: "عرب امارات کے حاکم وہ بانی شیخ زائد بن سلطان آل نہیان کا 2004 میں انتقال ہوا۔ اُس وقت عربی ریڈیو میں شیخ زائد کے اوپر ایک پروگرام آتا تھا۔ اس پروگرام کا عنوان تھا: زائد فی قلوبنا (شیخ زائد ہمارے دلوں میں)۔ اس پروگرام میں لوگ شیخ زائد کی شخصیت اور ان کے کارناموں کو بیان کرتے تھے۔ بعض لوگ اپنے تاثرات بیان کرتے وقت رونے لگتے تھے۔ اس واقعے کو لے کر اب میں سوچتا ہوں کہ اس دنیا میں ایسا کوئی شخص نظر نہیں آتا جو یہ کہے کہ ــــ اللہ ہمارے دلوں میں ہے۔ کوئی پروگرام ایسا دکھائی نہیں دیتا۔ جس کا عنوان ہو: اللہ فی قلوبنا (اللہ ہمارے دلوں میں)۔ لوگ اس پروگرام میں خدا کی نعمتوں کا اور اللہ کی عظمتوں کا چرچا کریں اور اللہ سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔ مومن وہ ہے جو اللہ رب العالمین کو اُس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرے ۔ جو شخص اللہ رب العالمین کو اس طرح اس کی عظمت اور قدرت کے ساتھ دریافت کرے گا ، اس کا دل اللہ کی بڑائی سے بھر جائے گا۔ وہ اللہ کی بڑائی میں جینے لگے گا۔ اللہ اس کے دل کا سب سے بڑا سرمایہ بن جائے گا۔ کائنات کی ہر چیز اُس کو اللہ کی یاد دلانے والی بن جائے گی۔ وہ سورج اور چاند میں اللہ کا جلوہ دیکھے گا۔ وہ پہاڑوں اور سمندروں میں آلاءِ اللہ (wonders of God) کا مشاہدہ کرے گا۔ انسان کی زندگی اور انسان کی موت بھی اس کو اللہ کی یاد دلانے والی بن جائے گی۔

جو اہل ایمان اس طرح اللہ کی عظمتوں میں جینے والے بن جائیں ، اُن کا حال یہ ہوگا کہ اُن کی زندگی اللہ کے رنگ میں رنگ جائے گی۔ وہ بولیں گے تو اُن کے بول اللہ کی عظمت والے بول ہوں گے ۔ وہ لکھیں گے تو اُن کی تحریر اللہ کی عظمت کے تعارف کے ہم معنی ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page