Al-Risala · September 2011 · page 12

محبت الہی، اطاعت الہی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۲

محبت الہی، اطاعت الہی

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ سے محبت کا مطلب اللہ کی اطاعت ہے۔ اس کا سبب وہ یہ بتاتے ہیں کہ اللہ کی ذات ایک غیر مرئی ذات (invisible being) ہے، اور ایک غیر مرئی ذات سے محبت جیسا جذباتی تعلق (emotional attachment) پیدا نہیں ہو سکتا، اُس کی صرف اطاعت ہی کی جاسکتی ہے۔ یہ اطاعت بواسطہ احکام ہوگی جو ہم کو قرآن اور حدیث کے ذریعے معلوم ہوئے ہیں۔ یہ بات صحیح نہیں۔ کیوں کہ جو بات اللہ سے محبت کے بارے میں کہی جاتی ہے، وہی بات اللہ پر ایمان سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ اللہ پر ایمان اگر يؤمنون بالغیب کی صورت میں ہو سکتا ہے، تو اللہ سے محبت بھی یحبون بالغیب کی صورت میں یقینی طور پر ممکن ہے۔

اصل یہ ہے کہ ایمان کا معاملہ ہو یا محبت کا معاملہ، دونوں اللہ کی نسبت سے مطلوب ہیں، نہ کہ کسی عام نسبت سے۔ ایمان کا مطلب عقیدہ ہے۔ عقیدہ کا لفظ ایک مرئی چیز (visible entity) کے لیے بھی بولا جا سکتا ہے۔ اُس وقت عقیدہ اپنے عام لغوی مفہوم میں ہوگا۔ لیکن جب عقیدہ کا لفظ اللہ کے لیے بولا جائے تو وہ نسبت کے بدلنے کی وجہ سے مافوق عقیدہ (high belief) کے معنی میں ہوگا۔ اِسی طرح، محبت کا لفظ جب اللہ کی نسبت سے استعمال کیا جائے تو وہ مافوق محبت (high love) کے ہم معنی ہو جائے گا۔

انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی سے انسان کا جذباتی تعلق حقیقتاً دیکھ کر قائم نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ فکر کے ذریعے تصوراتی سطح (conceptual level) پر قائم ہوتا ہے۔ خواہ بظاہر وہ کوئی مرئی چیز ہو یا غیر مرئی چیز، اْس سے انسان کا تعلق ہمیشہ تصوراتی سوچ کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ انسان کی نفسیات کے اعتبار سے، عقیدہ تصوراتی عقیدہ (conceptual belief) کا نام ہے۔ تصوراتی سطح پر ہی کسی انسان کو اللہ کی معرفت (realization of God) حاصل ہوتی ہے، تصوراتی سطح پر ہی کوئی انسان اللہ سے محبت کرنے والا بنتا ہے، نہ کہ مشاہداتی سطح پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page