Al-Risala · September 2011 · page 16

This black hole can eat the solar system

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۶

شخصیت کی تعمیر

تجربہ بتاتا ہے کہ انسان بچپن میں معصوم کلی کی مانند ہوتا ہے۔ لیکن بڑا ہونے کے بعد اس کی شخصیت میں طرح طرح کے بگاڑ آجاتے ہیں۔ مثلاً ضد اور سرکشی وغیرہ۔ شخصیت کی تعمیر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنی پیدائشی فطرت کو اُسی حالت میں محفوظ رکھے، جس حالت میں وہ ماں کے پیٹ سے نکلا تھا، یا وہ مویشیوں کی طرح جگالی کا طریقہ اختیار کرے، یعنی بعد کو اس کی شخصیت پر جو مصنوعی پردے پڑ گئے تھے، اُن کو ایک ایک کر کے ہٹانا، یہاں تک کہ اصل فطرت آمیز شوں سے پاک ہو کر سامنے آجائے۔ جدید نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کے دماغ کے تین بڑے حصے ہیں۔ یہ تینوں حصے ہر عورت اور ہر مرد کے دماغ میں پائے جاتے ہیں۔ وہ پیدائشی طور پر ہر انسانی دماغ کا حصہ ہیں۔ وہ تین حصے یہ ہیں:

1- شعوری ذہن (conscious mind)

2- تحت شعور (sub-conscious mind)

3- لاشعور (unconscious mind)

تجربہ و تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوئی بھی خیال جب ایک بار دماغ میں آجائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسانی ذہن (human mind) کا حصہ بن جاتا ہے، اور جیسا کہ معلوم ہے، انسانی ذہن ہی دراصل انسانی شخصیت کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی خیال انسان کے دماغ میں آجائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ اس کو اپنی شخصیت سے الگ کرنا چاہے تو وہ اس کو الگ کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔

جب کوئی بات انسان کے دماغ میں آتی ہے، خواہ وہ منفی ہو یا مثبت تو وہ سب سے پہلے دماغ کے شعوری حصے میں آتی ہے۔ اس کو زندہ حافظہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد آدمی جب رات کو سوتا ہے تو فطری عمل کے تحت اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ وہ بات شعوری ذہن سے چل کر ذہن کے تحت شعور میں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page