Al-Risala · September 2011 · page 17

This black hole can eat the solar system

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۷

پہنچ جاتی ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس خیال کے اوپر آدمی کا شعوری کنٹرول صرف پچاس فی صد رہ جاتا ہے۔ پچاس فی صد وہ اس کے شعوری کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ اگلی رات کوسوتا ہے تو یہ خیال مزید سفر کر کے ذہن کے لاشعور حصے میں پہنچ جاتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس کے بعد یہ خیال آدمی کے شعوری کنٹرول سے پوری طرح باہر ہو جاتا ہے۔

یہی روز مرہ کے افکار جو انسان کے ذہن میں آتے ہیں، وہی اس کی شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔ جیسے افکار ویسی شخصیت۔ مثبت افکار سے مثبت شخصیت بنے گی۔ لیکن اگر یہ افکار منفی افکار ہوں تو انسان کی شخصیت بھی منفی بنتی چلی جائے گی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے بُری شخصیت منفی شخصیت ہے اور سب سے زیادہ اچھی شخصیت وہ ہے جو مثبت شخصیت ہو۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ مثبت شخصیت کی تعمیر کس طرح کی جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی منفی خیال آدمی کے ذہن میں آجائے تو وہ اس کو پہلے ہی مرحلے میں ختم کردے۔ خصوصی تدبیر کے ذریعے اُس کے منفی پہلو کو مثبت پہلو میں تبدیل کرلے۔ مثلاً وہ غصہ ہو تو فوراً معاف کر دے تا کہ اس کا غصہ انتقام کی صورت اختیار نہ کرنے پائے۔ کسی کی ترقی اُس کو پسند نہ آئے تو اُسی وقت وہ اس کو نظر انداز کر دے تا کہ وہ اس کی شخصیت میں حسد بن کر شامل نہ ہوسکے، وغیرہ۔ ہر منفی خیال کے ساتھ فوراً ہی تصحیح (correction) کا عمل کرنا چاہیے۔ اگر اس میں دیر ہوئی تو جلد ہی ایسا ہوگا کہ وہ آدمی کے تحت شعور میں چلا جائے گا اور پھر کچھ عرصے بعد وہ اس کے لاشعور میں داخل ہو جائے گا۔ اور جب ایسا ہوگا تو وہ آدمی کی شخصیت کا اس طرح لازمی حصہ بن جائے گا کہ آدمی چاہے بھی تو وہ اس کو اپنی شخصیت سے جُدا نہ کرسکے۔

لوگ عام طور پر ایسا نہیں کرتے اور اس کی یہ بھیانک قیمت ادا کر رہے ہیں کہ ہر ایک، خوبصورت کپڑوں کے پیچھے ایک منفی شخصیت کی لاش لیے ہوتا ہے۔ منفی شخصیت دراصل جہنمی شخصیت ہے۔ جو عورت یا مرد اس ہلاکت خیز انجام سے بچنا چاہتے ہوں ان کو چاہیے کہ وہ مذکورہ عمل تصحیح کو اپنی روزانہ کی زندگی میں شامل کرلیں۔ اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی اور حل موجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page