جنت کی قیمت معرفت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۹
انسانی تاریخ کے چار دور Four Phases of Human History خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کے مطابق، انسانی تاریخ کے چار دور ہیں۔ یہ چار ادوار گویا کہ انسانی معرفت کے چار ادوار ہیں۔ یہ ایک طویل ربانی سفر ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ انسان خدا کی معرفت (realization of God) حاصل کرے، تاکہ اُس کو خدا کی ابدی جنت میں قیام کی سعادت حاصل ہو سکے۔
معرفت کیا ہے؟ معرفت خدا کی دریافت کا نام ہے جو بلاشبہ سب سے بڑی حقیقت ہے۔ خدا سب سے زیادہ ظاہر بھی ہے، اور سب سے زیادہ مستور (the most obvious, the most unknown) بھی۔ معرفت کے حصول کے لیے انسان کو ایک پورا سمندر پار کرنا ہوتا ہے۔ جو لوگ اس سمندر کو پار کرنے کا ثبوت دیں، وہی صاحب معرفت ہیں، اور انھیں کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ ابدی جنتوں میں داخل ہوں۔
جنت کی قیمت معرفت
قرآن کی سورہ الذاریات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون (65: 51) یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے تا کہ وہ میری عبادت کریں۔ مجاہد تابعی (وفات: 722ء) نے حضرت عبداللہ بن عباس (وفات: 687ء) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اس آیت میں عبادت سے مراد معرفت ہے: قال مجاهد إلا ليعبدون، أى إلا ليعرفوني (القرطبی، جلد 17، صفحہ 55) یعنی اس آیت میں خدا کی عبادت سے مراد خدا کی معرفت ہے۔ یہی قول ابن جریج تابعی (وفات: 767ء) سے بھی منقول ہے: قال ابن جريج إلا ليعبدون، أي إلا ليعرفون (تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر، جلد 4، صفحہ 338)۔
اس سلسلے میں ایک متعلق روایت بعض کتابوں میں آئی ہے۔ بعض محدثین نے اس روایت پر
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues