Al-Risala · September 2011 · page 20

جنت کی قیمت معرفت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۰

اس کی سند کے اعتبار سے کلام کیا ہے۔ لكن سترھویں صدی عیسوی کے مشہور فقیہ علی بن محمد نور الدین ملا علی قاری (وفات: 1606ء) نے کہا کہ: لیکن معناه صحيح، مستفاد من قوله تعالى: وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون، أي ليعرفوني (كشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 1011) یعنی اس کا مفہوم صحیح ہے، اور وہ اس آیت قرآنی سے ماخوذ ہے: وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: کنت کنزاً مخفياً فأحببت أن أعرف، فخلقت خلقاً فبي عرفوني (کشف الخفاء، رقم: 2016) یعنی میں ایک مخفی خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ مجھ کو جانا جائے، پھر میں نے انسان کو پیدا کیا، پھر انھوں نے مجھے جانا۔ اس سے اور متعدد دوسرے حوالوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے اصل مقصود یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت (realization) حاصل کرے ۔ یہی معرفت تمام انسانی کمالات کا سرچشمہ ہے۔ انسان کو جب حقیقی معنوں میں خدا کی معرفت ہو جائے تو اس سے اُس کے اندر تمام خوبیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اور یہی اس کے لیے ہر قسم کے شر سے دور رہنے کا محرک بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معرفت ہی دین خداوندی کی اصل روح ہے۔

خدا نے اپنے تخلیقی پلان (creation plan) کے مطابق، اس دنیا میں معرفت کے حصول کا اعلیٰ ترین انتظام کیا ہے۔ جو شخص اس معاملے میں سنجیدہ ہو، وہ کبھی معرفت کے حصول سے محروم نہیں رہ سکتا۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، اس انتظام کے چار درجے ہیں۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسانی تاریخ کے چار دور ہیں (phases) ہیں۔ ابتدائی تین دور سے گزرتے ہوئے اب انسانی تاریخ اپنے چوتھے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اس کے بعد کوئی پانچواں دور نہیں۔ اس کے بعد قیامت ہے اور ہر انسان کا اپنے ابدی انجام کے دور میں پہنچ جانا۔ تاریخ کے یہ چار دور حسب ذیل ہیں: 1. Realization at the level of unconsciousness 2. Realization at the level of consciousness 3. Realization through partial uncovering of the truth 4. Realization through total uncovering of the truth.

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page