Fire in man-made paradise
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۹
چاہیے—انسانیی سرگرمیاں دھیرے دھیرے صنعتی کثافت (industrial pollution) کی صورت اختیار کر گئیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا ایک قسم کا گیس چیمبر (gas chamber) بن گئی۔ یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ دنیا میں بطورِ خود اپنی ایک جنت بنا سکے۔ جس طرح موجودہ عارضی دنیا کی تخلیق خدا نے کی ہے، اُسی طرح ابدی جنت کی تخلیق خدا ہی کر سکتا ہے۔ کسی اور کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔
اس معاملے کا ایک علامتی واقعہ وہ ہے جو حال میں پیش آیا۔ امریکا کی ریاست کیلی فورنیا کے بڑے رقبے میں ہرے بھرے جنگل ہیں۔ اس جنگل کے کنارے ایک دریا بہتا ہے۔ یہ علاقہ نہایت خوب صورت علاقہ ہے۔ جنگل کے دوسری طرف جدید طرز کا ایک ٹاؤن بنایا گیا۔ اس کی خوب صورتی کی بنا پر اس کا نام پیراڈائز (Paradise) رکھ دیا گیا، یعنی جنت۔ یہاں کے لوگ خوشی اور راحتوں کی زندگی گزار رہے تھے۔
اس کے بعد یہ ہوا کہ جون 2008 میں سخت گرمی کی وجہ سے کیلی فورنیا کے ان وسیع جنگلوں میں آگ لگ گئی۔ حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود آگ پھیلتی گئی، یہاں تک کہ یہ آگ دریا کو پار (jump) کر کے پیراڈائز ٹاؤن میں داخل ہوگئی۔ 10 جولائی 2008 تک اس ٹاؤن کے 75 مکانات جل کر تباہ ہو چکے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھبراہٹ میں ٹاؤن کو چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ اس واقعے کی خبر میڈیا میں آچکی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (11 جولائی 2008) میں اس واقعے کی رپورٹ حسب ذیل عنوان کے تحت شائع ہوئی ہے: California fires spark evacuation (p. 23). آگ لگنے کی یہ خبر اسی پیراڈائز نامی ٹاؤن کے بارے میں ہے۔ اس خبر کا عنوان زیادہ درست طور پر یہ ہونا چاہیے انسان ساخت کی مادی جنت میں آگ :
Fire in man-made paradise
امریکا کے پیراڈائز نامی ٹاؤن میں جو آگ لگی ہے، وہی آگ اس وقت ساری دنیا میں لگی ہوئی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues