معرفت بذریعہ فائنل اظہار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۸
اس علامت کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، سمندر کرۂ ارض کے تین چوتھائی حصے پر محیط ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا، جب کہ سخت گرمی کے نتیجے میں سمندروں کا پانی کھولنے لگے گا۔ چناں چہ فرمایا: وإذا البحار سُجّرت (81:6) یعنی جب سمندروں کو (آگ سے) بھڑکا دیا جائے گا:
And when the seas are set on fire (81: 6)
قیامت سے پہلے پیش آنے والی اس حقیقت کو حدیث میں مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا كان يوم القيامة أدنيت الشمس من العباد (الترمذي، رقم الحديث (2421) یعنی جب قیامت کا دن قریب آجائے گا تو سورج انسان کے قریب ہوجائے گا۔ سورج کے قریب آنے کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی گرمی قریب آجائے گی۔ موجودہ زمانے میں جس سائنسی انقلاب کا ظہور ہوا، وہ خدا کے منصوبے کے عین مطابق تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے نیچر (Nature) میں چھپی ہوئی خدا کی نشانیاں ظاہر ہوں تاکہ انسان اُن سے سبق لے اور خالق کی معرفت حاصل کرکے خالق کی ابدی رحمتوں کا مستحق بنے۔ مگر انسان نے ان چیزوں کو صرف اپنے مادی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اور بظاہر شان دار صنعتی تمدن کی ایک دنیا بنا کر اس میں رہنے لگا۔
صنعتی دریافتوں کا مقصد خالق کی معرفت کا حصول تھا، نہ کہ خود اپنے لیے مادی عیش کی ایک دنیا بنانا۔ یہ سائنسی دریافتوں کا ایک غلط استعمال (misuse) تھا۔ خدا نے اس کو پسند نہیں کیا۔ اس بنا پر مختلف قسم کی صنعتی خرابیاں (industrial evils) پیدا ہوگئیں۔ مثلاً وہ خرابی جس کو گرین ہاؤس گیس، یا کاربن ایمیشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔
کاربن ایمشن کوئی نیا مسئلہ نہیں، وہ ہمیشہ سے موجود تھا۔ مگر اس سے پہلے یہ تھا کہ خدا کا بنایا ہوا فطری نظام اس کاربن کو اپنے اندر جذب (absorb) کر لیتا تھا۔ اب یہ ہوا کہ خدا کے فطری نظام نے صنعتی کاربن کو جذب کرنا چھوڑ دیا۔ انسان کے پاس اس نظام کا کوئی بدل موجود نہ تھا، اس لیے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues