Al-Risala · September 2011 · page 36

ایک غیر دانش مندانہ روش

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۶

ایک غیر دانش مندانہ روش

حسن البصری (وفات : 110 ھ) اور عمر بن عبد العزیز (وفات: 101 ھ دونوں ہم عصر تھے۔ عمر بن عبد العزیز کے بارے میں تاریخی روایتوں میں آتا ہے کہ: ولما ولی عمر بن عبد العزیز الخلافة كتب إلى الحسن البصري: إني قد ابتليتُ بهذا الأمر، فانظر لي أعواناً يعينونني عليه۔ فأجابه الحسن: أما أبناء الدنيا فلا تريدهم، وأما أبناء الآخرة فلا يريدونك، فاستعن بالله۔ (الأعلام للزركلي، جلد 2، صفحہ 226)۔ یعنی جب عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنائے گئے تو انھوں نے حسن البصری کو خط لکھا۔ اُس خط میں یہ درج تھا کہ مجھ پر خلافت کی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، پس میرے لیے کچھ مددگار تلاش کیجئے جو اس کام میں میری مدد کریں۔ حسن البصری نے اس کے جواب میں اُن کو لکھا۔ جہاں تک اہل دنیا کا تعلق ہے، آپ ان کو نہیں چاہیں گے اور جو اہل آخرت ہیں، وہ آپ کو نہیں چاہیں گے، اس لیے آپ اللہ سے مدد کے طالب بنئے۔ حسن البصری کا یہ جواب بلاشبہ ان کے اخلاص پر مبنی تھا، لیکن یہ ایک غیر دانش مندانہ جواب تھا۔ اس روش کا یہ نقصان ہوا کہ عمر بن عبد العزیز کو اپنے زمانے کے علماء حق کا تعاون حاصل نہ ہو سکا۔ اصل یہ ہے کہ بعد کو جب مسلمانوں کے درمیان ملوکیت کا زمانہ آیا تو علماء حق نے ملوک سے دوری کا طریقہ اختیار کر لیا۔ یہ طریقہ بظاہر اخلاص اور تقویٰ پر مبنی تھا، لیکن وہ حکمت پر مبنی نہ تھا۔ کیوں کہ حکمران کے پاس جو وسائل ہوتے ہیں، وہ افراد کے وسائل سے ہزار گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ حکمت کا تقاضا ہے کہ ان وسائل کو دین کے لیے استعمال کیا جائے۔ مگر مسلم علماء کے غیر ضروری احتیاط کی بنا پر یہ کام نہ ہو سکا۔ مسلمانوں کے پورے سیاسی عہد میں علماء کی عام طور پر یہی روش تھی ۔ اس عموم میں صرف چند علماء کا استثنا پایا جاتا ہے۔ مثلاً رجاء بن حیوہ الکندی (وفات: 112 ھ) اور قاضی امام ابو یوسف البغدادی (وفات: 182 ھ)۔ اس غلط روایت کا نقصان قدیم تاریخ میں بھی ہوا اور جدید تاریخ میں بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page