تعلق باللہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۵
تعلق باللہ
خدا کو ایک خارجی حقیقت کے طور پر دریافت کرنا کافی نہیں ہے۔ خدا کے ساتھ گہرا تعلق صرف اُس وقت قائم ہوتا ہے، جب کہ آدمی خدا کی رحمتوں کو اپنی ذات کی سطح پر دریافت کرے۔ اس معاملے کو ایک لفظ میں پرسنلا ئزیشن آف بلسنگس آف گاڈ (personalization of divine blessings) کہا جا سکتا ہے۔ مثلاً ہر آدمی کو اپنے ماں باپ سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ کیوں کہ آدمی یہ سوچتا رہتا ہے کہ میرے ماں باپ نے میرے ساتھ یہ کیا اور میرے ماں باپ نے میرے ساتھ وہ کیا۔ اس قسم کی سوچ جب خدا کے بارے میں پیدا ہو جائے تو اسی کا نام تعلق باللہ ہے۔
موجودہ دنیا اپنے تمام اجزا کے ساتھ خدا کے انعامات کا ظہور ہے۔ سوچنے والے انسان کے لیے اُس کا ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ خدا کے آفاقی انعامات کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دریافت بھی کافی ہے کہ انسان خدا کو اپنا منعم سمجھے۔ وہ خدا کا شکر کرنے والا بندہ بن جائے، لیکن یہ احساس اُس وقت بہت زیادہ شدید ہو جاتا ہے جب کہ انسان ان نعمتوں کو اپنی ذات کی سطح پر دریافت کرے۔ پہلی دریافت آدمی کو یہ الفاظ دیتی ہے کہ۔ خدایا، تو نے انسان کے اوپر کتنا زیادہ انعام فرمایا ہے۔ لیکن جب آدمی دوسری نوعیت کی دریافت کا تجربہ کرے تو وہ بے اختیار ہو کر پکار اٹھے گا کہ خدایا، تو میرے اوپر کتنا زیادہ مہربان ہے۔ تو نے مجھ کو وہ نعمتیں بھی دیں جن کو میں جانتا تھا، اس کے علاوہ تو نے مجھ کو مزید وہ بے شمار نعمتیں عطا کر دیں جن کو میں نہ جانتا تھا اور نہ میں اُن کا طلب گار بن سکتا تھا۔
انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ اللہ سے گہرا تعلق ہے۔ یہ گہرا تعلق صرف گہری سوچ (deep thinking) کے ذریعے پیدا ہو سکتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ خدا کی نعمتوں کو اپنی ذات کی سطح پر دریافت کرے ۔ اس قسم کی ذاتی دریافت ہی کسی آدمی کے اندر گہرا تعلق باللہ پیدا کر سکتی ہے۔ خدا سے اسی گہرے تعلق کو قرآن میں حب شدید کہا گیا ہے : والذين آمنوا أشد حبا لله (165 :2) ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues