Al-Risala · September 2011 · page 38

زندگی کا سفر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۸

زندگی کا سفر

انسان کی زندگی بہتے ہوئے در کی مانند ہے۔ دریا کیا ہے، دریا فطرت کا ایک انوکھا ظاہر ہ ہے۔ دریا میں یہ ہوتا ہے کہ ہر لمحہ اس کے پرانے پانی میں نیا پانی شامل ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح دریا کی تازگی مسلسل باقی رہتی ہے۔ اگر کسی دریا میں پانی کا یہ تسلسل باقی نہ رہے تو ایسا دریا یا اپنی تازگی کو کھودے گا، وہ اپنی صحت بخش صفت کو باقی نہ رکھ سکے گا۔

انسان کے بارے میں بھی فطرت نے یہی طریقہ رکھا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، انسان ایک نسلی تسلسل کا نام ہے۔ کچھ لوگ پیدا ہوتے ہیں، اُن کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کی ایک نئی نسل وجود میں آتی ہے۔ سوسال کے اندر پچھلے پیدا ہونے والے مر کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، اور ان کی جگہ نئے پیدا ہونے والے عورت اور مرد لے لیتے ہیں۔ دریا میں اگر پرانے پانی اور نئے پانی کا ریپلیس مینٹ (replacement) ہوتا ہے، تو انسان کے اندر یہی واقعہ پچھلی نسل اور اگلی نسل کے ریپلیس مینٹ کی صورت میں پیش آتا ہے۔

انسانی زندگی میں فطرت نے یہ جو نظام قائم کیا ہے، اس کے پیچھے بہت بڑی حکمت ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگلی نسل پچھلی نسل کے تجربات سے سبق حاصل کرے، وہ پچھلی نسل کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر زیادہ بہتر طور پر جاری رکھے۔ اگلی نسل کے لیے پچھلی نسل کا یہی وہ قیمتی عطیہ ہے جس کی بنا پر زیادہ عمر کے لوگوں کو اولڈ از گولڈ (old is gold) کہا جاتا ہے۔ مثلاً ایک بوڑھے باپ نے دیکھا کہ اس کا بیٹا بہت ذہین ہے، لیکن اس کے اندر مزاج کے اعتبار سے ایک قابل اصلاح چیز پائی جاتی ہے۔ وہ یہ کہ بیٹے کے اندر بہت بڑھی ہوئی خود اعتمادی ہے۔ اس بڑھی ہوئی خود اعتمادی کی بنا پر اس کو کئی بار نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ باپ نے اپنے بیٹے کو سمجھایا اور کہا کہ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ہر حال میں حقیقت پسند بنے۔ اس نے اپنے بیٹے سے کہا: My son, confidence is good, but over-confidence is equally bad.

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page