زندگی کا سفر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۹
یہ نصیحت بیٹے کو اس کی زندگی میں بہت کام آئی۔ اسی طرح ایک بوڑھے باپ نے دیکھا کہ اس کے بیٹے کے اندر جلد بازی ہے۔ وہ صبر کے ساتھ انتظار کرنا نہیں جانتا۔ باپ نے بیٹے کو اپنے تجربات کے حوالے سے سمجھاتے ہوئے کہا:
My son, life is one percent action, and nintynine percent restraint. باپ کی یہ نصیحت بیٹے کی زندگی کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی۔
اسی طرح ایک بوڑھے باپ نے دیکھا کہ اس کے بیٹے کے اندر استقلال نہیں ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ مل کر دیر تک کام نہیں کر پاتا۔ باپ نے اپنے تجربات کی روشنی میں بیٹے کو سمجھایا اور کہا: My son, maturity is the ability to live with things you can not change. باپ کی یہ نصیحت بیٹے کے لیے ایک رہنما نصیحت بن گئی۔ اس نے اپنے معاملات پر نظر ثانی کی، اس نے اپنی زندگی کی از سر نو پلاننگ کی اور پھر اس نے اپنی زندگی میں اعلیٰ کامیابی حاصل کی۔ ان مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگلی نسل کے لیے پچھلی نسل کتنی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اگلی نسل کو پچھلی نسل دانش مندی عطا کرتی ہے۔ وہ اس کو ایسے فارمولے دیتی ہے جو عملی تجربات کے ذریعے صحیح ثابت ہو چکے ہیں۔ اس طرح پچھلی نسل اگلی نسل کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دوبارہ وہ غلطی نہ کرے جو پچھلے لوگوں نے کیا اور اس کا نقصان اٹھایا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگلی نسل کے لیے پچھلی نسل فطرت کا ایک تحفہ ہے، ایسا تحفہ جس کا کوئی بدل نہیں، ایسا تحفہ جو کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
انسان کی زندگی اگر رواں پانی کی طرح ہو، جس میں ہمیشہ پرانے پانی میں نیا پانی شامل ہوتا رہے، تو ایسا پانی ہمیشہ تر و تازہ رہے گا، وہ کبھی خراب نہ ہوگا۔ اس کے برعکس، جو پانی بند گڑھے کی مانند ہو، اس میں نئے پانی کی آمیزش نہ ہوتی ہو تو ایسا پانی اپنی تازگی کھودے گا، وہ غیر مفید بن کر رہ جائے گا— اس معاملے میں بہتا ہوا در یا فطرت کی طرف سے ایک صحت بخش پیغام ہے اور انسانی تاریخ کا تجربہ اس کی عملی تصدیق کرتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues