آخری انجام
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۱
سوال و جواب سوال عصر حاضر کیا ہے، نیز کیا عصر حاضر کے بعض مظاہر مثلاً عریانیت، وغیرہ کی تردید، عصر حاضر کی تردید کے ہم معنی ہے۔ براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں (شارق حسین، نئی دہلی) جواب عصر حاضر کی ایک آئیڈیالوجی (ideology) ہے اور دوسری چیزیں وہ ہیں جو اس کے مظاہر ہیں۔ مظاہر ہمیشہ اضافی (relative) ہوتے ہیں، اس لیے مظاہر کو دیکھ کر عصر حاضر کو درست طور پر سمجھا نہیں جاسکتا۔ عصر حاضر کی بنیاد اس کی مخصوص آئیڈیالوجی پر ہے۔ عصر حاضر کو سمجھنے کے لیے اس کی اسی آئیڈیالوجی کو سمجھنا چاہیے۔
عصر حاضر کی آئیڈیالوجی دراصل مذہب کی آئیڈیالوجی کے بالمقابل پیدا ہوئی ہے۔ مذہب کی آئیڈیالوجی تمام تروحی (revelation) پر قائم ہے۔ الہامی مذاہب کی اصل بنیاد تمام تروحی کا یہی تصور ہے۔ وحی کو مذاہب میں گویا کہ مسلمہ اصول (axiom) کا درجہ حاصل ہے، یعنی عقلی دلیل کے بغیر اس کو برحق تسلیم کرنا۔ یہی تمام الہامی مذاہب کی اصل بنیاد ہے۔
اس کے مقابلے میں، عصر حاضر کی آئیڈیالوجی عقل (reason) پر قائم ہے۔ اس آئیڈیالوجی کے مطابق، کسی بھی تصور کو مسلمہ کی حیثیت حاصل نہیں۔ ہر تصور کو عقل کی معلوم کسوٹی پر جانچا جائے گا۔ جو چیز عقلی جانچ میں درست ثابت ہو، وہ درست ہے۔ اور جو چیز عقلی جانچ میں درست ثابت نہ ہو، وہ نادرست۔ یہی عصر حاضر کی اصل فکری بنیاد ہے۔
اس مخصوص آئیڈیالوجی کی بنا پر جدید ذہن نے عضویاتی ارتقا (organic evolution) کو حقیقت مان لیا۔ اس کے مقابلے میں، اس نے خدا کے تصور کو مفروضہ قرار دیا۔ کیوں کہ عضویاتی ارتقا کم از کم اپنے طریقہ (method) کے اعتبار سے، جدید ذہن کو عقلی نظر آیا۔ اس کے برعکس، خدا کے تصور کے بارے میں جدید ذہن کا خیال تھا کہ اس کے ثبوت کے لیے کوئی معلوم عقلی بنیاد موجود نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues