آخری انجام
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴۲
عصر حاضر کی اس آئیڈیا لوجی میں بلاشبہ بہت سے علمی نقص موجود ہیں، لیکن عصر حاضر کا تجزیہ کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئیڈیا لوجی اور مظاہر کے فرق کو سمجھیں ۔ وہ یہ غلطی نہ کریں کہ مظاہر کی تردید کرکے وہ یہ سمجھ لیں کہ انھوں نے عصر حاضر کی آئیڈیا لوجی کو رد کر دیا۔ سوال چند سوالات کی وضاحت مطلوب ہے۔ اسلام اور مسلمان دونوں کو ایک چیز سمجھا جائے یا ان میں کچھ فرق ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جذباتی اشو پر برطانیہ کے مسلمان بہت جلد بھڑک اٹھتے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے۔ اسلام میں پردے کا تصور کیا ہے نیز کیا اسلام میں عورتوں پر مسجد جانے میں پابندی رکھی گئی ہے۔ کیا کارٹون جیسے معاملے پر بھڑکنا پیغمبر کی تعلیمات میں ہے (رنجنا سین گپتا، نئی دہلی) جواب 1- جو آدمی اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے، وہ اکثر ایک مسئلے سے دوچار رہتا ہے، وہ یہ کہ ایک طرف، اسلام کا اسکرپچر (scripture) قرآن ہے۔ اور دوسری طرف، مسلمان ہیں جو اسلام کو اپنا مذہب بتاتے ہیں ۔ اس طرح دوحوالوں کی بنا پر مطالعہ کرنے والا کنفیوژن میں پڑ جاتا ہے۔ وہ مسلمانوں کے عمل (practice) کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں رائے قائم کرنے لگتا ہے۔ اس معاملے میں یہ ایک عام غلطی ہے۔ اس لیے اسلام کے اسٹوڈنٹ کے لیے پہلا رہنما اصول یہ ہے کہ: You have to differentiate between Islam and Muslims. You have to judge Muslims in the light of Islamic teachings, and not vice versa. اصل یہ ہے کہ اسلام ایک ریلیجس آئیڈیا لوجی ہے، جب کہ مسلمان ایک کمیونٹی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ایسی حالت میں کمیونٹی کو اسلام کے تابع کیا جائے گا، نہ کہ اسلام کو کمیونٹی کے تابع کر دیا جائے۔ اسلام کے سائنٹفک مطالعے کے لیے یہ ایک بنیادی اصول ہے۔ اس اصول کو ملحوظ رکھ کر ہی اسلام کے بارے میں درست رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ اگر اس اصول کو ملحوظ نہ رکھا جائے، تو اسلام کے بارے میں مبنی بر حقیقت رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues