Al-Risala · October 2011 · page 51

ختم نبوت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۵۱

ختم نبوت

اسلامی عقیدے کے مطابق ، پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ اُسی وقت سے شروع ہوگیا جب کہ انسان کو پیدا کر کے اس کو موجودہ زمین پر آباد کیا گیا ہے۔ آدم ، پہلے انسان تھے اور پہلے پیغمبر بھی (23:3)۔ اس کے بعد ہر دور اور ہر نسل میں مسلسل طور پر پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو خدا کا پیغام دیتے رہے (23:44)۔ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اوّل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ آپ پر خدا نے اپنی کتاب قرآن اتاری۔ اس کتاب میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ محمد، اللہ کے رسول ہیں، اور اسی کے ساتھ وہ نبیوں کے خاتم (40:33) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

خاتم، یا سیل (seal) کے معنی کسی چیز کو آخری طور پر مہر بند کرنے کے ہیں، یعنی اس کا ایسا خاتمہ جس کے بعد اس میں کسی اور چیز کا اضافہ ممکن نہ ہو:

Seal: To close completely

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ختم نبوت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ : لا نبیّ بعدی (صحیح البخاري، کتاب الأنبياء ) یعنی میرے بعد کوئی اور نبی نہیں۔

ختم نبوت کا مطلب ختم ضرورت نبوت ہے۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ اس لیے ختم کر دیا گیا کہ اس کے بعد نئے نبی کی آمد کی ضرورت باقی نہ رہی۔ جیسا کہ معلوم ہے، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ وہ کامل طور پر محفوظ ہو گیا۔ اور جب دین خداوندی محفوظ ہو جائے، تو اس کے بعد یہی محفوظ دین ، ہدایت حاصل کرنے کا مستند ذریعہ بن جاتا ہے۔ خدا کی ہدایت کو جاننے کے لیے اصل ضرورت محفوظ دین کی ہے، نہ کہ پیغمبر کی۔ قرآن کی ایک آیت میں اس حقیقت کو واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔

قرآن کی سورہ المائدہ میں ایک آیت ہے، جس کے بارے میں صحیح روایات میں آیا ہے کہ وہ قرآن کی آخری آیت ہے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں۔ اليوم أكملت لكم دينكم، وأتممت

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page