Al-Risala · October 2011 · page 3

Seal: To close completely

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳

علیکم نعمتی، ورضیتُ لكم الإسلام ديناً (5:3) قرآن کی اس آیت کے تین جُز ہیں: 1- آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کر دیا، یعنی یہ آیت قرآن کی آخری آیت ہے۔ اس آیت کے ساتھ قرآن کا نزول مکمل ہو گیا۔

2- میں نے تمھارے اوپر اپنی نعمت کو پورا کر دیا، یعنی قرآن کے گرد، اصحابِ رسول کی ایک مضبوط ٹیم جمع ہوگئی، جو قرآن کی حفاظت کی ضامن ہے۔

3- اور میں نے اسلام کو بحیثیتِ دین تمھارے لیے پسند کر لیا، یعنی اب اسلام کو ہمیشہ کے لیے مستند دین خداوندی کی حیثیت حاصل ہوگئی۔

قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذکر ہے۔ حدیث کے مطابق، قدیم زمانے میں جو پیغمبر دنیا میں آئے، ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔ مگر ان پیغمبروں پر بہت کم لوگ ایمان لائے۔ اس بنا پر ان پیغمبروں کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم نہ بن سکی، جو اُن کے بعد اُن کی لائی ہوئی کتاب کی ضامن بنے۔ چناں چہ پچھلے پیغمبروں کی لائی ہوئی کتابیں اور ان کے صحیفے محفوظ نہ رہ سکے۔ پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبد الله بن عبد المطلب کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ تھا۔ آپ 570 عیسوی میں عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے ۔ اُس وقت یہاں جو لوگ (بنو اسماعیل) آباد تھے، ان کی پرورش تمدن سے دور صحرائی ماحول میں ہوئی ۔ اس بنا پر وہ اپنی اصل فطرت پر قائم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام کو استثنائی طور پر ساتھ دینے والوں کی بڑی تعداد حاصل ہوگئی۔ بائبل میں اس استثنائی واقعے کو بطور پیشین گوئی ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے — وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا: He came with ten thousand of saints (Deoteronomy 33:2)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی صدی ہجری میں مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا ۔ ہجرت (622ء) کے آٹھویں سال آپ فاتحانہ طور پر دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے تو اُس وقت آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ موجود تھے۔ اس کے بعد اپنی وفات سے تقریباً ڈھائی مہینے پہلے جب آپ نے آخری حج ادا کیا اور عرفات کے میدان میں اپنے اصحاب کو خطاب فرمایا، اُس وقت آپ کے اصحاب کی تعداد ایک لاکھ سے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page