دعوائے نبوت نہیں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۳
بہاء اللہ خاں نے صرف یہ کہا تھا کہ میں مظہرِ حق ہوں۔ انھوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی اپنی زبان سے یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ انھوں نے صرف یہ کہا تھا کہ میں ظلّ نبی ہوں، یعنی میں نبی کا سایہ ہوں۔ اس طرح کے قول کو ایک قسم کی دیوانگی تو کہا جا سکتا ہے، لیکن اس کو دعوائے نبوت نہیں کہا جا سکتا۔ ہندو گروؤں کی مثال موجودہ زمانے میں ہندوؤں میں کچھ ایسے افراد پیدا ہوئے جن کے متعلق کہا گیا کہ وہ وقت کے پیغمبر ہیں، مگر یہ بات بھی خلاف واقعہ ہے۔ مثلاً دہلی کے نرکاری بابا گربچن سنگھ (وفات: 1980) کے بارے میں ایک پمفلٹ مجھے ملا، جس میں نرکاری بابا کو وقت کا پیغمبر (prophet of the time) لکھا گیا تھا۔ میں اُن سے ان کے دہلی کے آشرم میں ملا، میں نے ان کی تقریر سنی اور ان سے گفتگو کی۔ لیکن معلوم ہوا کہ نرکاری بابا کے کچھ معتقدین ان کے بارے میں ایسا کہتے ہیں۔ لیکن خود نرکاری بابا نے اپنی زبان سے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔
اسی طرح کیرلا (تری وندرم) میں ایک مشہور ہندو گرو تھے۔ اُن کا نام برہما شری کرونا کرا (وفات: 1999) تھا۔ تری وندرم میں ان کا ایک بڑا آشرم تھا، جس کا نام 'شانتی گری آشرم' ہے۔ اُن کے مشن کے کچھ لوگ مجھ سے دہلی میں ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بابا جی وقت کے پیغمبر ہیں۔ اس کے بعد میں نے خود کیرلا کا سفر کیا اور تری وندرم میں ان کے آشرم میں ان سے ملا۔ میں نے ان کے معتقدین سے پیشگی طور پر بتا دیا تھا کہ میں کس مقصد سے وہاں جا رہا ہوں۔ ۔
میں نے یہ سفر فروری 1999 میں کیا تھا۔ شانتی گری آشرم میں پہنچ کر میں اُن سے ملا۔ مجھے ایک خصوصی کمرے میں لے جایا گیا، جہاں بابا جی کے ساتھ اُن کے تقریباً پچاس معتقدین موجود تھے۔ گفتگو کے دوران میں نے بابا جی برہما شری کرونا کرا سے ایک سوال کیا۔ اس کا جواب انھوں نے واضح لفظوں میں دیا۔ وہ سوال وجواب یہ تھا:
Q: Do you calim that you are a prophet of God in the same sense
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues