Al-Risala · October 2011 · page 12

دعوائے نبوت نہیں

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۲

کوئی بھی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اپنی زبان سے یہ دعویٰ کرے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اور جب کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا نہیں اٹھاتو پیغمبر اسلام کا یہ دعویٰ اپنے آپ ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا۔ آپ کے اس اعلان کے بعد تقریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی بھی شخص ایسا نہیں اٹھا جو اپنی زبان سے یہ اعلان کرے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اس طرح آپ کا دعویٰ گویا کہ بلا مقابلہ اپنے آپ ثابت ہو گیا۔

اس سلسلے میں کچھ نام بتائے جاتے ہیں، جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ انھوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر یہ خیال درست نہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ آپ کے زمانے میں یمن کے مُسیلمہ (وفات: 633ء) نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ لیکن کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے کسی مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اُس نے صرف یہ کہا تھا کہ میں محمد کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہوں۔ اس طرح اُس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل حیثیت دے دی۔ اور جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شرکت نبوت سے انکار کیا تو اُس کا دعویٰ اپنے آپ ختم ہو گیا۔

اسی طرح آپ کے زمانے میں یمن میں ایک اور شخص پیدا ہوا، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ شخص اسود عنسی (وفات: 632ء) تھا۔ تاہم تاریخ کی کتابوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اُس نے خود اپنی زبان سے یہ کہا تھا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ میرے مطالعے کے مطابق، اِس کا کیس ارتداد اور بغاوت کا کیس تھا، نہ کہ دعوائے نبوت کا کیس۔ اِسی طرح آپ کے بعد ابوالمُتنّبی (وفات: 965ء) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا، مگر یہ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ المُتنّبی ایک شاعر تھا اور نہایت ذہین آدمی تھا۔ اُس نے مزاحیہ طور پر ایک بار اپنے کو نبی جیسا بتایا، بعد کو اس نے اپنے اس قول کو خود ہی واپس لے لیا۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسے دو افراد پیدا ہوئے، جنھوں نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا—بہاء اللہ خاں (وفات: 1892) اور مرزا غلام احمد قادیانی (وفات: 1908)، مگر تاریخی ریکارڈ کے مطابق، یہ بات درست نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page