Al-Risala · October 2011 · page 17

مستقبل کی تصدیق

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۷

ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سب سے زیادہ کامیاب انسان (supremely successful) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پوری انسانی تاریخ میں ایک استثنا (exception) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر لحاظ سے آپ تمام انسانوں کے درمیان کامل طور پر ایک منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔

مستقبل کی تصدیق

قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اول میں اترا۔ اُس وقت قرآن کی سورہ حم السجدہ میں یہ اعلان کیا گیا کہ ۔ عن قریب، ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر کھل جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (41:53)۔

اِس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے خدا نے جس صداقت کا اعلان کیا ہے، وہ ایک ابدی صداقت ہے۔ بعد کو آنے والی تاریخی تبدیلیاں اُس کو رد نہیں کریں گی، بلکہ وہ اس کی تصدیق کرتی چلی جائیں گی۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ اعلان پوری طرح سچا ثابت ہوا۔ ظہورِ اسلام کے بعد کے زمانے میں مختلف قسم کی تبدیلیاں ہوئیں اور پھر علومِ سائنس کا دور آیا، جو گویا کہ تاریخ کا سب سے بڑا فکری انقلاب تھا۔ مگر بعد کو پیش آنے والے اِن انقلابات نے دِینِ محمدی کی جُوٹی یا کلی طور پر تردید نہیں کی، بعد کے زمانے میں پیش آنے والے تمام واقعات دِینِ محمدی کی صداقت کا ثبوت بنتے چلے گیے۔ اِس قسم کا استثنا (exception) لمبی تاریخ میں صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ یہاں ہم اس تاریخی واقعے کے بعض پہلوؤں کا ذکر کریں گے۔

توحید کی صداقت

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کے طور پر یہ اعلان کیا کہ خدا صرف ایک ہے۔ خدا کے سوا نہ کوئی خدا ہے اور نہ کوئی اس کا شریک۔ اُس وقت ساری دنیا میں انسان کے ذہن پر شرک کا تصور غالب تھا۔ لوگ مخلوقات میں تعدّد دیکھتے تھے، اس لیے انھوں نے مان لیا کہ خدائی میں بھی تعدّد ہے، یعنی مختلف چیزوں کو مختلف خداؤں نے بنایا ہے۔ مثلاً پانی کو کسی اور خدا نے بنایا، اور پہاڑ کو کسی اور

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page