توحید کی صداقت
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۸
خدا نے بنایا، اور سورج کو کسی اور خدا نے بنایا، اور چاند کو کسی اور خدا نے بنایا، وغیرہ۔ انسانی علم مظاہر فطرت کا مطالعہ کرتا رہا۔ اس مطالعے میں سیکڑوں سال بیت گئے۔ یہاں تک کہ سر آئزک نیوٹن (وفات: 1727) کے زمانے میں یہ تعدّد گھٹ کر چار تک پہنچ گیا۔ نیوٹن کے زمانے میں سائنس دانوں نے یہ مان لیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں بہت سی نہیں ہیں، بلکہ صرف چار طاقتیں ہیں جو پوری کائنات کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وہ چار طاقتیں یہ ہیں: 1- قوت کشش (gravitational force)
2- برقی مقناطیسی قوت (electormagnetic force)
3- طاقت ور نیوکلیئر قوت (strong nuclear force)
4- کم زور نیوکلیئر قوت (weak nuclear force)
مگر مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ نیوٹن کے زمانے سے کائنات کا جو سائنسی مطالعہ شروع ہوا تھا، اُس سے دن بدن یہ واضح ہوتا چلا گیا کہ وسیع کائنات میں اگرچہ ان گنت چیزیں ہیں اور سب کی سب متحرک ہیں، لیکن ان تمام متحرک اور متنوع چیزوں کے درمیان حیرت ناک حد تک ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی ہے۔ تمام چیزیں کامل توافق کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ یہ ہم آہنگی اور توافق اُس وقت ممکن نہیں ہوسکتی جب کہ کائنات کو متعدد طاقتیں کنٹرول کر رہی ہوں۔ چناں چہ سائنس داں مسلسل اس کوشش میں تھے کہ وہ اس معاملے میں تعدّد کو تو حد تک پہنچائیں۔ آخر کار برٹش سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) نے یہ کام اطمینان بخش طور پر انجام دیا۔ اسٹیفن ہاکنگ، نظریاتی فزکس کا سب سے بڑا سائنس داں مانا جاتا ہے۔ اس نے خالص سائنسی متھڈ کو استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی صرف ایک طاقت ہے۔ اس نظریہ کو سنگل اسٹرنگ تھیوری (single string theory) کہا جاتا ہے۔ اس طرح اس معاملے میں سائنسی نقطہ نظر اور توحید کا اسلامی نقطہ نظر دونوں ایک ہو گئے۔ توحید کا نقطہ نظر جس کائنات کا تقاضا کر رہا تھا، کائنات کی وہی نوعیت سائنسی مطالعے سے ثابت ہو گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues