دنیائے فانی کا نظریہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۲
کتاب میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ دنیا ترقی کر کے انڈسٹریل ایج (industrial age) میں پہنچی تھی۔ وہ مزید ترقی کر کے سپر انڈسٹریل ایج (super industrial age) کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ امریکا کو اسپیس ٹیکنالوجی میں کچھ ترقی ہوئی تو اُس نے اعلان کر دیا کہ اب ہم زمینی تہذیب سے آگے بڑھ کر خلائی تہذیب (space civilization) کے دور تک پہنچ رہے ہیں۔ اب ہم زمین سے چاند تک سفر کریں اور وہاں سے مریخ (Mars) تک پہنچ جائیں گے:
We want to build a space civilization for tomorrow from where humans can travel to the Moon and from there to Mars (The Times of India, September 26, 2007, p. 21). یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ ہماری زمین پر وہ اختتامی دور شروع ہو گیا جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ (UNO) موجودہ دنیا کا سب سے بڑا عالمی ادارہ ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت، ایک انٹرنیشنل پینل بنایا گیا ۔ اس پینل میں ڈھائی ہزار سائنس داں شامل کیے گئے۔ ان سائنس دانوں کا تعلق دنیا کے ایک سو تیس (130) ملکوں سے تھا۔ یہ پینل موسمیاتی تبدیلی پر ریسرچ کے لیے تھا۔ اس پینل نے اپنی ریسرچ مکمل کر کے اس کی تفصیلی رپورٹ اقوام متحدہ کے حوالے کر دی ہے۔ یہ کسی ایک کانفرنس کی بات نہیں۔ آج کل تقریبا ہر روز میڈیا میں اس قسم کی خبریں آ رہی ہیں۔ تمام دنیا کے سائنس داں مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ زمین پر زندگی کے اسباب کا مسلسل خاتمہ ہو رہا ہے۔ کئی انواع حیات (species) اب تک ناموافق موسم کی وجہ سے ختم ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے کی ایک رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (3 جنوری 2007) میں شائع ہوئی۔ اُس کا عنوان یہ تھا—انتباہی نشانیاں (Warning Signs)- اس سلسلے کا ایک اور حوالہ یہ ہے۔ مشہور سائنس داں جیمس لولاک (James Lovelock) نے جدید سائنسی معلومات کی روشنی میں کہا ہے کہ 2050ء تک سطح ارض کا بڑا حصہ خشک ہو چکا ہوگا۔ بیش تر زندگیاں ختم ہو جائیں گی۔ ہم ایک ایسے انجام کے کنارے پہنچ چکے ہیں، جب کہ ایک ایک کر کے لوگ مرنے لگیں گے، یہاں تک کہ سارے لوگ ختم ہو جائیں گے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہوگا جس کو
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues