Al-Risala · October 2011 · page 21

دنیائے فانی کا نظریہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۱

کر سکتا۔ یہ دنیا عارضی طور پر امتحان کے لیے بنی ہے اور اس کے بعد یہاں سے اُن تمام چیزوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا جس کی مدد سے انسان یہاں زندہ رہتا ہے اور اپنے لیے اپنی مطلوب دنیا بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں دو آیتیں نقل کی جارہی ہیں:

1- يوم تبدّل الأرض غير الأرض والسموات، وبرزوا لله الواحد القهّار (14:48) یعنی جس دن یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔ اور سب ایک زبردست اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔

2- إنّا جعلنا ما على الأرض زينة لها لنبلوهم أيُّهم أحسن عملاً۔ وإنّا لجاعلون ما عليها صعيداً جُرُزاً (8-7 :18) یعنی جو کچھ زمین پر ہے، اس کو ہم نے زمین کی رونق بنایا ہے، تاکہ ہم لوگوں کو جانچیں کہ اُن میں کون اچھا عمل کرنے والا ہے۔ اور ہم زمین کی تمام چیزوں کو ایک صاف میدان بنا دیں گے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کے مطابق، موجودہ سیارہ زمین پر جو زندگی بخش حالات ہیں، وہ حتمی طور پر ختم ہونے والے ہیں اور مسلسل ان کا کاؤنٹ ڈاؤن ہورہا ہے۔ لیکن بڑے بڑے انسانی دماغوں نے اس کے برعکس نظریہ قائم کیا۔ سُقراط اور افلاطون اور ارسطو سے لے کر موجودہ زمانے کے رہنماؤں تک ہر ایک نے یہ نظریہ قائم کیا کہ وہ انسانیت کے مستقبل کو آئیڈیل دور کی طرف لے جارہے ہیں۔ آئیڈیل اسٹیٹ، آئیڈیل سماج اور آئیڈیل نظام، وغیرہ۔ اس معاملے میں لوگوں کا واہمہ (obsession) اتنا بڑھا ہوا تھا کہ بار بار برعکس نتیجہ نکلنے کے باوجود انہوں نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ چارلس ڈارون (وفات: 1882) کا عضویاتی ارتقا (organic evolution) کا نظریہ سامنے آیا تو اس کے وسیع تر انطباق کے تحت یہ یقین کر لیا گیا کہ انسان کی تمدنی تاریخ مسلسل بہتر سے زیادہ بہتر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ صنعتی سائنس کے ظہور کے بعد اس نظریے کو مزید تقویت ملی اور یہ یقین کر لیا گیا کہ موجودہ دنیا کو جنتی دنیا میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ الون ٹافلر کی کتاب فیوچر شاک (Future Shock) پہلی بار 1970 میں چھپی۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page