The Historical Role of Islam
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۴
یہاں ہم ایک اور اقتباس نقل کرتے ہیں۔ انڈیا کے ایک ہندو اسکالر ایم این رائے (وفات : 1954) نے انگریزی زبان میں 91 صفحات کی ایک کتاب لکھی تھی، جو پہلی بار دہلی سے 1939 میں چھپی۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہ تھا اسلام کا تاریخی رول:
The Historical Role of Islam
اس کتاب میں مصنف نے اسلام کے غیر معمولی تاریخی رول کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام کی سیاسی توسیع بلاشبہ تمام معجزات میں سب سے زیادہ بڑا معجزہ ہے: The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (p. 4)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ حقیقت اتنی زیادہ بدیہی ہے کہ عام طور پر مورخین نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ تاریخ میں بڑے بڑے ایمپائر قائم ہوئے۔ مثلاً یونانی ایمپائر، رومن ایمپائر، ساسانی ایمپائر، برٹش ایمپائر، مگر کوئی بھی ایمپائر اسلامی فتوحات کے برابر نہیں۔ پیغمبر اسلام کا یہ تاریخی استثنا ابھی تک قائم ہے، یہ اُن دلائل میں سے ایک دلیل ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ خدا کے پیغمبر تھے۔ اور آپ کو خدا کی خصوصی مدد حاصل تھی۔ خدا کی مدد کے بغیر کوئی بھی شخص اس قسم کی استثنائی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔
نظریہ امن
امن کے بارے میں انسان ہمیشہ سوچتا رہا ہے۔ قدیم زمانے میں امن ایک قسم کا انتظامی معاملہ سمجھا جاتا تھا، یعنی امن ایک ایسی چیز تھی جس کو حاکمانہ اختیار کے تحت قائم کیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے تحت ارباب اختیار نے امن قائم کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً پیکس رومانا (Pax Romana)، پیکس برٹانکا (Pax Britanica)، پیکس امریکا نا(Pax Americana)، وغیرہ۔ مگر اس قسم کا سیاسی امن صرف جزئی طور پر کسی سماج کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ اہلِ علم کے درمیان مطلوب امن کا درجہ حاصل نہ کر سکا۔ بیسویں صدی کے آغاز سے امن پر مبنی ایک باقاعدہ نظریہ (ideology) وجود میں آیا۔ اس کو عام طور پر پیسی فزم (pacifism) کہا جاتا ہے۔ پیسی فزم کے نظریے کے تحت موجودہ زمانے میں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues