نظریہ امن
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۵
متعدد مفکرین پیدا ہوئے، مثلاً سموئل کانٹ (Samuel Cant)، مارکس ار پلیس (Marcus Aurelius) اور مہاتما گاندھی وغیرہ۔ اس نظریے کی حمایت میں بہت سے مقالات اور کتابیں شائع ہوئیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں اس موضوع پر تقریباً دس صفحے کا ایک مقالہ شامل ہے۔ اس موضوع پر شائع ہونے والی کتابوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ یہاں ہم صرف تین کتابوں کا نام درج کرتے ہیں: 1. Raymon Raymond Aron, Peace and War, 1966 2. E.L. Alen, Francis E. Pollard, The Case for Pacifism and Conscientious Objection, 1946 3. Aldous Huxley, An encyclopaedia of Pacifism, 1937 لیکن امن کے رہنما اور مفکرین کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام افراد جس امن تک پہنچے، وہ صرف ایک منفی امن (negative peace) تھا۔ جہاں تک مثبت امن (positive peace) کا تعلق ہے، وہاں تک کوئی بھی شخص نہ پہنچ سکا۔ امن کے تمام مفکرین جس امن کی بات کرتے ہیں، وہ جنگ اور تشدد کے مقابلے میں ہوتی ہے۔ چناں چہ امن کی تعریف جنگ اور تشدد کی غیر موجودگی (absence of war and violence) سے کی جاتی ہے۔ اسی تصور کی بنا پر یہ تمام افراد مفروضہ دشمنان امن کے خلاف اقدام کرتے رہے۔ کیوں کہ اُن کے نزدیک ان دشمن طاقتوں کے خاتمے سے دنیا میں امن قائم ہوتا تھا۔
اس نظریۂ امن میں امن کو مثبت قدر (positive value) کا مقام حاصل نہ ہو سکا ۔ اس نظریۂ امن میں امن کو صرف ایک طریقہ کار (method) کا درجہ حاصل ہوا، نہ کہ وسیع تر معنوں میں ایک نظریۂ حیات (ideology) کا درجہ۔
پیسی فزم (pacifism) کے معاملے میں مہاتما گاندھی کا نام نمایاں طور پر شامل ہے۔ لیکن ان کا نظریہ امن بھی ایک منفی نظریہ امن کی حیثیت رکھتا ہے۔ نئی دہلی میں ایک خصوصی سیمنار ہوا۔ اس سیمنار کی مکمل روداد نئی دہلی کے انگریزی اخبار دی پائی نیر (26 جنوری 1997) میں شائع ہوئی ۔ اس سیمنار میں راقم الحروف کے علاوہ حسب ذیل افراد شریک ہوئے— رام چندر گاندھی، رویندر کمار، سبراتا مکھرجی، کے آرم لکانی۔ اس سیمنار کا موضوع یہ تھا— کیا گاندھی آج کامیاب ہوتے؟ Could Gandhi have succeeded today?
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues