ایک غلط نہی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۴
اُس نے بامعنی طور پر اُن الفاظ کا انتخاب کیا تھا۔ قیامت اب زیادہ دور نہیں: Doomsday not Far یہ صورتِ حال ایک طرف سیکولر آئیڈیالوجی کی تنسیخ کر رہی ہے، اور دوسری طرف وہ ہم کو یہ قرینہ (clue) دے رہی ہے کہ اس معاملے میں مذہبی آئیڈیالوجی زیادہ درست اور مبنی بر حقیقت ہے۔ مذہبی آئیڈیالوجی جو پیغمبروں کے ذریعے معلوم ہوئی، وہ یہ ہے کہ موجودہ سیارۂ زمین اس لیے بنایا ہی نہیں گیا کہ یہاں انسان اپنے لیے مادی جنت کی تعمیر کر سکے۔ یہاں کے ناقص اسباب قطعیت کے ساتھ کسی مفروضہ مادی جنت کی تعمیر میں مانع ہیں۔
اس معاملے میں درست اور مطابق واقعہ بات یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے تمام اسباب، امتحانی پرچے (test papers) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں جو چیزیں انسان کو ملی ہیں، وہ بطور انعام نہیں ہیں۔ اگر یہ چیزیں بطورِ انعام ہوتیں، تو وہ اپنی ذات میں کامل ہوتیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، یہاں کی ہر چیز ناقص ہے اور ان چیزوں کا ناقص ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہی نظریہ درست ہے کہ یہ چیزیں امتحانی پرچے کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ انسان کو انعام کے طور پر نہیں دی گئیں۔ یہ قرینہ (clue) یہ ثابت کرتا ہے کہ اس معاملے میں پیغمبرانہ نظریہ ہی صحیح نظریہ ہے، یعنی یہ کہ موجودہ دنیا غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے۔ اس کے بعد ایک اور دنیا بنے گی جو اس دنیا کا معیاری ورژن (perfect version) ہوگا۔ موت کے بعد بننے والی اس معیاری دنیا میں وہ لوگ جگہ پائیں گے جو موجودہ امتحانی دنیا میں اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کر چکے ہوں۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام سیکولر فلسفی اور مفکر اور رہ نما ہزاروں سال سے یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ موجودہ دنیا میں منصفانہ سماج (just society) بنائیں، مگر ساری کوشش کے باوجود اُنھیں کامیابی نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس، جو ہوا وہ یہ کہ ساری دنیا میں انارکی اور کرپشن اور استحصال اور بددیانتی پھیل گئی۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں اس معاملے میں مزید اضافہ ہوا۔ حتیٰ کہ اب تمام قرائن کے مطابق، یہ ناممکن ہو چکا ہے کہ منصفانہ سوسائٹی کی تعمیر کے مقصد کو حاصل کیا جا سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues