ایک غلط نہی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۳
سیکولر آئیڈیالوجی سے مراد وہ آئیڈیالوجی ہے جو خالص انسانی عقل (reason) کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں، مذہبی آئیڈیالوجی وہ ہے جو پیغمبر کی رہنمائی کے تحت بنی۔ موجودہ زمانے کا یہ ایک عجیب ظاہر ہ ہے کہ سیکولر آئیڈیالوجی اب اپنی ناکامی کے آخری دور میں پہنچ چکی ہے۔ اس کے برعکس، تمام قرائن (clues) بتا رہے ہیں کہ مذہبی آئیڈیالوجی نئی صبح کی مانند انسان کے اوپر طلوع ہونے والی ہے، بلکہ وہ طلوع ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
جدید مادی ترقیوں کے بعد سیکولر مفکرین نے یہ یقین کر لیا کہ بہت جلد ہمارے سیارہ زمین (planet earth) پر وہ بہتر دنیا بننے والی ہے، جس کا خواب ہزاروں سال سے انسان دیکھتا رہا ہے۔ اس آئیڈیالوجی کی ایک نمائندہ کتاب فیوچر شاک (Future Shock) ہے، جس کو اُس کے مصنف الون ٹا فلر (Alvin Toffler) نے پہلی بار 1970 میں شائع کیا۔ یہ کتاب شائع ہوتے ہی بیسٹ سیلر بن گئی۔ اس کتاب میں مصنف نے تیقن کے ساتھ یہ پیشین گوئی کی تھی کہ دنیا تیزی کے ساتھ انڈسٹریل ایج سے ترقی کر کے سپر انڈسٹریل ایج میں داخل ہونے والی ہے۔ یہ سویلائزیشن کا اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلہ ہوگا، جب کہ انسان کی تمام مادی خواہشیں اپنا مکمل فلفل مینٹ (fulfilment) پالیں۔ مگر اکیسویں صدی کا آغاز اس قسم کے تمام اندازوں کے خاتمے کے ہم معنی بن گیا۔ اب شدت کے ساتھ وہ ظاہر ہ پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ (global warming) کہا جاتا ہے۔ انڈسٹریل سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی کثافت نے سیارہ زمین پر ایسے حالات پیدا کئے، جب کہ یہ دنیا سرے سے انسان کے لیے قابل رہائش (habitable) ہی نہیں رہے گی۔ آج کل میڈیا میں مسلسل یہ خبریں آ رہی ہیں کہ تمام دنیا کے سائنس دانوں نے گہری ریسرچ کے بعد یہ پایا ہے کہ ہماری زمین میں موسمیاتی تبدیلی (climatic change) اس خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب وہ غیر منقلب (irreversible) ہو چکی ہے۔ یہ سائنس کی زبان میں قیامت کی پیشین گوئی ہے، یعنی زمین پر موجودہ حالات کا خاتمہ اور ایک نئی تاریخ کا آغاز۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (18 نومبر 2007) نے گلوبل وارمنگ کے موضوع پر ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ کے عنوان کے لئے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues