خاتم النبیین
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۸
پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن میں یہ پیشین گوئی آئی ہے کہ آپ کو مقام محمود کا درجہ عطا کیا جائے گا مقام محمودیت کا ایک پہلو وہ ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا۔ دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق موجودہ دنیا سے ہے۔ موجودہ دنیا کی نسبت سے مقام محمود یہ ہے کہ آپ کو تاریخی اعتبار سے ایک مسلم نبوت (established prophethood) کا درجہ حاصل ہوگا۔
آپ سے پہلے جو انبیا آئے، وہ مدوّن تاریخ میں ریکارڈ نہ ہو سکے۔ آپ کے سوا ہر ایک کی حیثیت، اعتقادی نبوت کی ہے نہ کہ تاریخی نبوت کی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ کو خدا نے آخری پیغمبر بنایا تھا۔ آپ کے بعد کوئی دوسرا پیغمبر آنے والا نہ تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب اور آپ کی پیغمبرانہ زندگی کامل طور پر محفوظ ہو جائے، وہ تسلیم شدہ تاریخی ریکارڈ کی حیثیت حاصل کرلے۔ کیوں کہ قانونِ الہی کے مطابق، جب پیغمبر مستند تاریخی ریکارڈ کا درجہ حاصل کرلے تو اس کے بعد اُس کی لائی ہوئی کتاب اور اُس کی تعلیمات کا یہی ریکارڈ پیغمبر کا قائم مقام بن جاتا ہے، اِس کے بعد کسی نئے پیغمبر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
خاتم النبیین
قرآن کی سورہ الاحزاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ: ما كان محمد أبا أحد من رجالكم، ولكن رسول الله وخاتم النبيين (33:40) یعنی محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صفتیں بیان کی گئی ہیں—رسول اللہ، اور خاتم النبیین۔ رسول اللہ ہونے کے اعتبار سے آپ دوسرے تمام رسولوں کی مانند تھے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: لا نفرق بين أحد من رسله (285 :2) یعنی رسول ہونے کے اعتبار سے، ایک رسول اور دوسرے رسول کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ لیکن مذکورہ آیت کے مطابق، اِس کے سوا آپ کی ایک اور حیثیت ہے، اور وہ یہ کہ آپ رسول ہونے کے علاوہ خاتم النبیین ہیں، یعنی سلسلہ نبوت کے آخری پیغمبر۔ آپ کا خاتم النبیین ہونا دراصل آپ کی ایک مزید (additional
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues