Al-Risala · October 2011 · page 39

خاتم النبیین

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۹

صفت کو بتاتا ہے، یعنی آپ کی آمد کے بعد نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس قرآنی آیت میں 'خاتم' کا لفظ آیا ہے۔ لغت کے اعتبار سے 'خاتم' اور 'خاتَم' دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کا مطلب ایک ہے، یعنی آپ سلسلہ نبوت کے آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد اب کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اس فیصلے کو غیر مشتبہ بنانے کے لیے، اللہ تعالیٰ نے مزید اہتمام یہ کیا کہ آپ کی کوئی اولادِ نرینہ (male offspring) نہیں۔ ورنہ یہ امکان تھا کہ لوگ آپ کے بیٹے کو پیغمبر کا درجہ دے دیں۔

نبیوں کا خاتم ہونا صرف فہرست کی تکمیل کا معاملہ نہ تھا، بلکہ وہ اُس ضرورت کے ختم ہو جانے کا معاملہ تھا جس کی بنا پر پچھلی تاریخ میں بار بار پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ نئے پیغمبر کو بھیجنے کی ضرورت اُس وقت ہوتی ہے جب کہ خدا کا دین محفوظ حالت میں باقی نہ رہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ليحكم بين الناس فيما اختلفوا فيه (2:23)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین مکمل طور پر محفوظ ہو گیا، اس لیے بطورِ حقیقت اس کی ضرورت باقی نہ رہی کہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی آئے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کئی چیزیں ایسی ملتی ہیں جو دوسرے پیغمبروں کے یہاں موجود نہیں۔ مثلاً سیاسی غلبہ۔ اِس قسم کی چیزیں تکمیل نبوت کے لیے نہیں ہیں، بلکہ وہ ختم نبوت کے لازمی تقاضے کے طور پر ہیں۔ اگر یہ مزید چیزیں آپ کی زندگی میں شامل نہ ہوتیں تو ایسا نہ ہوتا کہ نبوت کا سلسلہ آپ پر ختم ہو جائے۔ حالاں کہ منصوبہ الہی کے مطابق ، ایسا ہونا ضروری تھا۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبر کے آنے کا مقصد صرف یہی نہیں ہوتا کہ وہ شخصی طور پر اپنے زمانے کے لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچادے، بلکہ اسی کے ساتھ پیغمبر کے آنے کا یہ مقصد بھی ہوتا ہے کہ وہ انسانی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کرے، وہ ہدایتِ ربانی کے معاملے کو خود تاریخی عمل (historical process) میں شامل کردے۔ پیغمبر اسلام کے ظہور کے بعد یہ سب کچھ بہ تمام و کمال پیش آ گیا، اس لیے اب نبیوں کی آمد کی ضرورت بھی باقی نہ رہی۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کے یہ تمام اضافی پہلو قرآن میں بتا دیے گئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues

Printed page