Al-Risala · November 2011 · page 2

الحبّ للہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲

الحبّ للہ

انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ محبت کا جذبہ ہے۔ انسان جب کسی چیز کو اپنا سب سے بڑا کَنْسَرن (supreme concern) بنائے تو اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے محبت کے جذبات اس چیز سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ مذہبی اصطلاح میں اسی کو ’’معبود بنانا‘‘ کہا جاتا ہے۔ جس چیز سے آدمی سب سے زیادہ محبت کرے، وہی اس کا معبود ہے، خواہ وہ اس کے لیے محبت کا لفظ بولے یا نہ بولے۔

ایمان باللہ یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اس طرح دریافت کرے کہ اللہ ہی سے اس کو سب سے زیادہ محبت ہوجائے۔ اسی کو قرآن میں: الذین آمنوا أشد حباً لله (165: 2) کہا گیا ہے۔ جو آدمی اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگے، وہی وہ شخص ہے جس نے اللہ کو اپنا معبود بنایا۔ جس آدمی کے اندر اللہ کے لیے حقیقی محبت پیدا ہوجائے، اُس کے اندر سے یہ محبت مختلف شکلوں میں ظاہر ہونے لگے گی۔ ظہور کی انھیں مختلف شکلوں کو قرآن میں حمد اور شکر اور ذکر جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ محبت ہی دراصل تعلق باللہ کی اصل ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ الحمد للہ کا مطلب ہے: الحب للہ۔ الشکر للہ کا مطلب ہے: الحب للہ۔ اسی طرح اللہ کے لیے ذکر کثیر کا مطلب ہے: اللہ کے لیے محبت کثیر۔ قرآن میں آیا ہے کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے (28: 13)۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ صرف اللہ کی محبت ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے انسان کو حقیقی معنوں میں اطمینانِ قلب عطا ہوتا ہے:

Love of God alone gives the peace of mind.

اللہ پر ایمان، اللہ کی دریافت (discovery) سے شروع ہوتا ہے۔ اسی دریافت کو قرآن میں معرفت کہا گیا ہے۔ حقیقی معرفت وہ ہے جو آدمی کے پورے وجود میں شامل ہوجائے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اسی سے وہ تمام اعلیٰ مظاہر پیدا ہوتے ہیں جن کو محبت اور شکر اور ذکر جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page