انسان اور جنت
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳
انسان اور جنت
حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: لَتَدْخُلُنَّ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى، وشرَدَ على الله شراد البعير (فتح الباری 268 یعنی تم ضرور جنت میں داخل ہوگے، سوائے اس کے جس نے انکار کیا، اور وہ اللہ سے بھاگا جیسے اونٹ بدک کر بھاگتا ہے۔ اللہ نے انسان کو اصلاً جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسان جیسی مکرم مخلوق کا مقام صرف جنت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اور جنت دونوں ایک دوسرے کا مثنیٰ (counterpart) ہیں۔ انسان جنت کے لیے ہے، اور جنت انسان کے لیے۔
اللہ نے جنت میں داخلے کے لیے جو شرط مقرر کی ہے، وہ انتہائی حد تک قابلِ عمل ہے، وہ کسی بھی درجے میں انسان کے لیے نا قابل عمل نہیں۔ وہ شرط یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جس فطری حالت پر پیدا کیا ہے، اُسی فطری حالت پر وہ جئے اور پھر اسی فطری حالت کے ساتھ وہ اللہ تک پہنچ جائے (إلا من أتى الله بقلب سليم)
جنت میں داخلے کی واحد شرط یہ ہے کہ آدمی خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت پر قائم ہو۔ وہ خدا کی فطرت سے انحراف نہ کرے۔ یہ خدائی فطرت ہر انسان کو الہام کر دی گئی ہے (8: اگر آدمی اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچائے، تو وہ یقینی طور پر اپنی اس فطرت کو پہچان لے گا۔ ہر انسان کے اندر ضمیر (conscience) موجود ہے۔ یہ ضمیر اس خدائی فطرت کی ایک داخلی علامت ہے۔ خدا کے پیغمبر اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو اس فطرت سے باخبر کریں، تا کہ جو چیز لاشعور کی سطح پر انسان کے اندر موجود ہے، اس کو وہ شعور کی سطح پر دریافت کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جنت کے لیے ہے، اور جنت انسان کے لیے۔ اس میں استثنا (exception) صرف اُس شخص کا ہے جو خود ہی اپنے آپ کو بھٹکا کر جنت کے سوا کسی اور منزل کا مسافر بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues