عیادت کا رواج
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۶
عیادت کا رواج
آج کل یہ رواج ہے کہ کوئی بیمار ہو تو اس کو دیکھنے کے لیے اس کے دوست اور رشتہ دار ہجوم کر کے اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ پہلے زمانے میں صرف قریبی لوگ عیادت کے لیے آیا کرتے تھے۔ اب کمیونیکیشن کی بنا پر لوگ دور دور کے مقامات سے چل کر عیادت کے لیے آتے ہیں اور اس کو اسلام کا جز سمجھتے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک رواج ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مریض کی عیادت حقیقۃً خیر خواہی کا نام ہے، اور خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی جہاں ہے، وہیں رہتے ہوئے وہ مریض کے لیے اللہ سے دعا کرے ۔ دعا بلا شبہ سب سے بڑی خیر خواہی ہے۔ ہجوم کرکے مریض کے پاس پہنچنا صرف مریض کے مسائل میں اضافہ کرتا ہے۔ اس قسم کی عیادت کسی بھی درجے میں مریض کے لیے راحت کا سبب نہیں بنتی۔ مریض کی خدمت صرف دو طرح کے لوگ کر سکتے ہیں۔ گھر والے، یا ڈاکٹر۔
باہر کے جو لوگ مریض کی عیادت کے لیے آتے ہیں، وہ صرف مریض کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس قسم کی رواج ہی عیادت مریض کی خدمت نہیں ہے، بلکہ وہ مریض کے لیے صرف زحمت ہے۔ ایک ہے عیادت برائے مقصد۔ دوسرا ہے عیادت برائے عیادت۔ اگر واقعۃً مقصد کا تقاضا ہو تو ایسی عیادت ایک مطلوب کام قرار پائے گی۔ لیکن اگر عیادت برائے عیادت ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہ دین کے اعتبار سے، اور نہ دنیا کے اعتبار سے۔
حقیقت یہ ہے کہ مریض اگر خود کسی کو بلائے تو وہ سفر کر کے اس کے پاس آ سکتا ہے، لیکن مریض نے اگر اُس کو بلایا نہ ہو تو عیادت کے نام پر سفر کر کے دور دور کے مقام سے اس کے یہاں پہنچنا، بلا شبہ ایک غیر مطلوب کام ہے۔ نہ شرعی اعتبار سے اس کا کوئی اجر ہے اور نہ دنیوی اعتبار سے اس کا کوئی فائدہ۔ یہ صرف پیسے اور وقت کا ضیاع ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ عیادت بطور ضرورت عیادت ہے، اور ضرورت کے بغیر عیادت صرف ایک بے روح رسم۔ (5 ستمبر 2011)
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues