تجسیم کا نظریہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۵
تجسیم کا نظریہ
بعض مذہبوں میں تجسیم (incarnation) کا نظریہ پایا جاتا ہے۔ اس کو حلول یا وحدت وجود بھی کہتے ہیں۔ حلول یا تجسیم کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تجسد الإله فی شکل بشری (العلمانية: نشأتها وتطورها واثارها فى الحياة الإسلامية المعاصرة، لسفر بن عبد الرحمن الحوالى) یعنی خدا کا انسانی صورت میں مجسم ہونا۔
حلول یا تجسیم کا یہ تصور اصلاً ایک فلسفیانہ تصور ہے۔ قدیم فلاسفہ مانتے تھے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے، لیکن وہ خدا ایک قسم کی اسپرٹ ہے، اس کی کوئی شکل وصورت نہیں۔ یہ خدا جب ظاہر ہونا چاہتا ہے تو وہ کسی انسان کی صورت میں مجسم ہو جاتا ہے۔ ہندو مذہب میں اسی کو اوتار واد کہا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق، خدا اصلاً ایک غیر شخصی خدا (impersonal god) ہے، پھر وہ مختلف زمانوں میں کسی انسان کی صورت میں متشکل ہوتا ہے۔ اسی کو ہندو مذہب میں 'اوتار' کہا جاتا ہے۔ اسلام میں حلول یا تجسیم کا یہ نظریہ سرتا سر باطل ہے۔ کچھ صوفیا نے اس باطل تصور کو وحدت وجود (monism) کے نام پر اسلام میں داخل کیا، لیکن یہ یقینی طور پر ایک بے بنیاد نظریہ ہے، اسلام میں ایسے کسی نظریے کی کوئی گنجائش نہیں۔
قرآن میں کہا گیا ہے کہ: واسجد واقترب (19: یعنی سجدہ کرو اور قریب ہو جاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا اور بندے کے درمیان قربت کا واقعہ پیش آتا ہے، یعنی بندہ اور خدا دونوں ایک نہیں ہو جاتے، بلکہ عملاً یہ ہوتا ہے کہ ایک بندہ جب حقیقی معنوں میں ساجد بن جاتا ہے تو وہ نفسیات کی سطح پر خدا کے قرب کا تجربہ کرتا ہے۔ خدا کے ساتھ اس کی سرگوشیاں ہونے لگتی ہیں۔ اس کو خدا کی موجودگی (presence of God) کا شدید تجربہ ہوتا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں، وہ اس طرح عبادت کرنے لگتا ہے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے— خدا اور بندے کے درمیان وحدت کا تصور نہیں، البتہ اسلام میں، خدا اور بندے کے درمیان قربت کا تصور اپنے کامل ترین معنوں میں پایا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues