Al-Risala · January 2011 · page 4

امتِ محمدی کی حیثیت

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۴

امتِ محمدی کی حیثیت

انسان کی تخلیق کے بعد اُس کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نظام قائم کیا کہ مسلسل ان کی طرف پیغمبر بھیجے (44:23)۔ مگر اس ہدایت رسانی کے لیے ہر قوم اور ہر نسل میں پیغمبر نہیں بھیجے گئے۔ بلکہ ایک منتخب قوم میں پیغمبر بھیجے گئے، اس قوم کی یہ ذمہ داری قرار پائی کہ وہ اپنے پیغمبر کے ذریعہ ہدایت ربانی کو حاصل کرے اور پھر پیغمبر کی نیابت میں دوسری قوموں تک اس ہدایت کو مسلسل پہنچاتی رہے۔ پیغمبروں کی آمد کا یہ سلسلہ قائم رہا، یہاں تک کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیغمبروں کی بعثت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ قرآن میں بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم کو ہم نے سارے عالم پر فضیلت دی (47:2)। اس آیت میں ہدایت الہی کے اسی نظام کا ذکر ہے۔ امتِ محمدی سے پہلے اللہ تعالیٰ نے امتِ یہود کو اس عمل کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو پیغمبر آئے، وہ یہود یا بنی اسرائیل میں آئے۔ اُس وقت یہود کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ اپنے پیغمبروں سے ہدایت الہی کو حاصل کریں اور اس کو دوسری قوموں تک پہنچاتے رہیں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ یہ بگاڑ اس حد تک پہنچا کہ وہ پیغمبرانہ نصیحت کو سننے پر راضی نہ ہوئے، حتی کہ وہ آخری اسرائیلی پیغمبر حضرت مسیح کے قتل کے درپے ہو گئے۔ اس کے بعد اُن سے مذکورہ فضیلت چھین لی گئی، اور یہ فضیلت امتِ محمدی کو دے دی گئی۔ قرآن میں امتِ محمدی کو خیر امت (110: 3) کہا گیا ہے، اور حدیث میں اُن کے لیے فضیلت کے الفاظ آئے ہیں (مسند احمد، جلد 5، صفحہ (383)۔ اس سے مراد یہی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدی کو اُس ذمے داری کے لیے منتخب فرمایا ہے جو ذمے داری پہلے یہود کو دی گئی تھی۔ پہلے جس اعتبار سے، یہود کی حیثیت منتخب امت کی تھی، اب اُسی اعتبار سے، امتِ محمدی کی حیثیت ایک منتخب امت کی ہے۔ امتِ محمدی کا فرض منصبی یہ ہے کہ وہ سارے عالم کے اوپر دعوت الی اللہ کا کام کرے اور ہر جنریشن میں اس کو جاری رکھے ۔ اس عملِ دعوت کو چھوڑنے کے بعد امتِ محمدی کی منتخب حیثیت اُسی طرح ختم ہو جائے گی جس طرح اس سے پہلے امت یہود کی حیثیت ختم ہوگئی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page