مقری کا رول
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۵
مقری کا رول
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر 610 عیسوی میں قرآن کا پہلا حصہ اترا۔ اس کا پہلا لفظ یہ تھا: اقرأ، یعنی اے پیغمبر، تم مقری بن جاؤ، مقری کے لفظی معنی ہیں پڑھ کر سنانے والا (reciter) اس آیت کے نزول کے فوراّ بعد یہ ہوا کہ پیغمبر اسلام مقری بن گئے۔ اُس وقت آپ مکہ میں تھے۔ آپ جہاں بھی دیکھتے کہ کچھ لوگ اکٹھا ہیں، آپ وہاں جاتے اور قرآن کے نازل شدہ حصہ کو انھیں پڑھ کر سناتے، چناں چہ روایتوں میں آتا ہے کہ: عرض عليهم الإسلام، وتلا عليهم القرآن۔
پیغمبر اسلام کے اصحاب نے بھی اِسی طریقہ کو اختیار کر لیا، ہر صحابی عملاً مقری بن گیا۔ انٹریکشن (interaction) کے دوران جب بھی کوئی صحابی کچھ لوگوں کو پاتا، وہ مقری بن کر ان کو قرآن کے حصے پڑھ کر سناتا۔ مقری کا لفظ اگر چہ مکی دور میں استعمال نہیں ہوا، یہ لفظ پہلی بار اس وقت استعمال ہوا جب ہجرت سے کچھ پہلے ایک صحابی (مصعب بن عمیر) مکہ سے مدینہ بھیجے گئے، وہ وہاں یہی کرتے تھے کہ جس مقام پر وہ دیکھتے کہ کچھ اہل مدینہ اکٹھا ہیں، وہاں وہ چلے جاتے اور قرآن کا کچھ حصہ انھیں پڑھ کر سناتے۔ یہی ان کا دعوہ ورک تھا، مدینہ میں ان کو مقری کہا جانے لگا، یعنی داعی۔ یہی دعوت کا اصل کام ہے، یعنی قرآن کو پڑھ کر سنانا، رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں پرنٹنگ پریس وجود میں نہیں آیا تھا، اُس وقت کسی مومن کے لیے مقری یا داعی بننے کی ایک ہی ممکن صورت تھی، یہ کہ وہ قرآن کو یاد کرے، اور حافظہ کی مدد سے قرآن کے حصے لوگوں کو پڑھ کر سنائے۔
حدیث میں دو گروہوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے، ایک اصحاب رسول اور دوسرے اخوان رسول۔ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اصحاب رسول سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر اہلِ ایمان ہیں، انھوں نے رسول اللہ سے براہِ راست قرآن کو سنا، اور اس کو یاد کر لیا، پھر وہ حسب موقع لوگوں کو قرآن کے مختلف حصے پڑھ کر سناتے رہے، اس بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہر صحابی مقری تھا، مہاجر صحابہ بھی اور انصار صحابہ بھی۔ دعوت الی اللہ کا بنیادی طور پر یہی معیاری ماڈل ہے۔ قرون مشہود لہا بالخیر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues