تعلقات انسانی کا اصول
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۳
وہ اپنی عمومی ذمے داری کو ادا کر سکتے ہیں، یعنی دعوت الی اللہ کی ذمے داری۔ آئیڈیالوجی آف دعوہ حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت عملاً زندہ نہ رہے اور پھر کوئی شخص اس کو اپنی کوششوں سے زندہ کرے، تو اس عمل پر اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے: من أحيا سنة من سنتي قد أميتت بعدي فإن له من الأجر مثل من عمل بها۔
(الترمذي، رقم الحديث : 2677)
اس حدیث کو سامنے رکھا جائے اور غور کیا جائے کہ موجودہ زمانے میں وہ کون سی سنت رسول ہے جو آج زندہ نہیں ہے تو بلا شبہ وہ صرف ایک سنت ہوگی، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو دیکھئے تو ان کے درمیان نماز اور روزہ اور حج اور زکاۃ جیسے دینی اعمال بہت بڑے پیمانے پر انجام دیے جارہے ہیں، لیکن صرف ایک ہی بڑی سنت ہے جو آج عملاً زندہ نہیں، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ ملی خدمت یا اصلاحِ المسلمین کا کام کریں گے اور وہ اس کو دعوت الی اللہ کا نام دے دیں گے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کے رشتے کو زندہ کرنا، اس معاملے میں سنت رسول کو زندہ کرنا ہے۔ لیکن یہ کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم ترین کام ہے۔ دعوت کی اسی اہمیت کی بنا پر قرآن میں اُس کو جہادِ کبیر (52: 25) کہا گیا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان دعوت الی اللہ کی سنت کو حقیقی معنوں میں زندہ کرنے کے لیے ایک مکمل دعوہ آئیڈیالوجی (ideology of dawah) درکار ہے، ایک ایسی آئیڈیالوجی جو دعوت کی اہمیت کو جدید علمی اصول پر مدلّل کرے، جو اُن سوالات کا تشفی بخش جواب دے جو دعوت کے راستے میں ذہنی رکاوٹ (intellectual obstacle) کی حیثیت رکھتے ہیں۔
دعوت کا کام ایک ایسے ماحول کا طالب ہے، جہاں داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور تشدد کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہو۔ واضح رہے کہ یہ خاتمہ فریق ثانی کی طرف سے کبھی نہیں کیا جائے گا۔ یہ خاتمہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues