تعلقات انسانی کا اصول
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۴
جب بھی ہوگا ، وہ داعی گروہ کی طرف سے یک طرفہ طور پر کیا جائے گا ، اسی لیے قرآن میں دعوت کا حکم دیتے ہوئے پیغمبر اسلام سے فرمایا گیا: ولربک فاصبر (74:3) یعنی مدعو کی طرف سے تمام زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کرو اور پوری طرح مثبت انداز میں دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھو۔ جدید نظریات موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے نظریات سامنے آئے ہیں جو بظاہر اسلام کے روایتی موقف سے ٹکراتے ہیں۔ اس ظاہری ٹکراؤ نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو ان جدید نظریات کے بارے میں منفی ذہن میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ ان نظریات کی ایسی توضیح کی جائے جو اس معاملے میں مسلمانوں کے منفی ذہن کا خاتمہ کر سکے۔ بصورت دیگر ، داعی اور مدعو کے درمیان وہ نارمل تعلقات قائم نہیں ہوں گے جو دعوت کے مثبت عمل کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں شتم رسول کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے ایک حساس مسئلہ بن گیا ہے۔ مسلمان جب بھی کوئی ایسی تحریر پڑھتے ہیں یا تقریر سنتے ہیں ، جو اُن کے نزدیک شتم رسول کے ہم معنی ہو، تو وہ فوراً مشتعل ہو جاتے ہیں اور تشدد کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہایت سنگین طور پر دعوتی عمل کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ جدید تہذیب کے زیر اثر آج تمام غیر مسلم قوموں میں یہ مان لیا گیا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی مطلق معنوں میں انسان کا ایک حق ہے ، کسی بھی عذر کی بنا پر اس کو ساقط نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے ماحول میں مسلمان جب بطور خود شتم کے واقعے کو لے کر ہنگامہ شروع کرتے ہیں اور وہ میڈیا کے ذریعے فوراً لوگوں کے علم میں آ جاتا ہے ، تو لوگ یہ تصور قائم کر لیتے ہیں کہ اسلام آزادی رائے کے خلاف ہے۔ اس بنا پر اسلام اس قابل نہیں کہ وہ جدید انسان کا مذہب بن سکے۔ میں ذاتی طور پر شتم رسول کو ایک ایسا معاملہ سمجھتا ہوں جس پر مسلمان صرف دو قسم کے رویّے کا حق رکھتے ہیں۔ یا تو وہ اس سے اعراض کرتے ہوئے خاموش رہیں ، یا دلیل کی زبان میں پُرامن طور پر وہ اس کا جواب دیں۔ اس موضوع پر میں نے ”شتم رسول“ کا مسئلہ کے نام سے ایک مستقل کتاب
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues