Al-Risala · November 2011 · page 15

تعلقات انسانی کا اصول

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۵

لکھی ہے جو 191 صفحات پر مشتمل ہے اور 1997 میں نئی دہلی سے شائع ہو چکی ہے۔ تاہم بالفرض اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ شتم رسول ایک قابل گردن زدنی معاملہ ہے، اور شتم کا کیس يُقتل حدّا کا کیس ہے، تب بھی اس کو اس معاملے میں اجتہاد کرنا چاہیے۔ دعوت الی اللہ کی مصلحت کا تقاضا ہے کہ ایسا شخص اس معاملے کو الضرورات تبیح المحظورات کے خانے میں ڈالے، اور قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت، اس کو موجودہ زمانے میں ساقط قرار دے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں مسلمانوں کا منفی ذہن بدستور باقی رہے گا اور وہ دعوت جیسے مثبت عمل کے لیے نااہل (incompetent) قرار پائیں گے۔

اوپر جن مسائل کا بیان ہوا، وہ براہِ راست طور پر دعوت الی اللہ کی تجدید سے تعلق رکھتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو نئے حالات پیدا ہوئے ہیں، ان کے ریفرنس میں دعوت کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کرنا ہے۔ نئے حالات میں جو نئے موانع (obstacles) پیدا ہوئے ہیں، ان کا اس طرح جواب دینا ہے جو دعوت کے راستے کو دوبارہ کھولنے والا ہو۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کی بات کرنا دراصل انھیں سوالات کو ایڈریس کرنے کا نام ہے۔ اس سے کم تر درجے کا کوئی عمل موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے راستے کو ہموار کرنے والا نہیں۔

ان مسائل سے صرف نظر کر کے اگر کوئی کام کیا جائے اور بطور خود اس کو دعوت الی اللہ کا نام دیا جائے، تو یہ قرآن کے الفاظ میں يحبون أن يُحمدوا بما لم يفعلوا (188: 3) کا مصداق ہوگا، یعنی ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا جس کو آدمی نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا۔ بھوپال میں الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ حاصل کرنے کے لیے حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں: Zuberi Book House Near Brahimpura Masjid Brahimpur, Bhopal-462001 Mob. 09425689224, 09893575890, 09752654872

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page