Al-Risala · November 2011 · page 17

ایک یادگار دن

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۷

باب الحث علی طلب العلم) یعنی امت محمدی کے علماء نبیوں کے وارث ہیں۔

دعوت کے پہلے دور میں تبیین حق کا کام جن پیغمبروں نے انجام دیا، انھوں نے اپنے کام کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں (إني رسول الله إليكم) ۔ اس اعلان کا حق انھیں اس لیے تھا کہ فرشتہ جبریل کے ذریعے اُنھیں براہِ راست طور پر یہ علم دیا گیا تھا۔ لیکن بعد کے دور میں جو عالم، یا علماء کا جوگروہ تبیین حق کے کام کو انجام دے، اس کو مذکورہ قسم کے پیغمبرانہ اعلان یا دعویٰ (claim) کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کرنے کا حق نہیں۔

بعد کے زمانے میں تبیین حق کا کام کرنے والے علماء کی شناخت ان کے ذاتی اعلان کے ذریعے نہ ہوگی، بلکہ ان کے کام کے ذریعے ہوگی، یعنی جو علماء بعد کے دور میں ظاہر ہونے والی آیات فطرت (signs of nature) کا گہر ا علم حاصل کریں اور ان کو دعوت حق کی حمایت میں درست طور پر اور موثر طور پر استعمال کریں، وہ اس آیت میں کی گئی پیشین گوئی کا مصداق ٹھہریں گے۔ ایسے علماء کو صرف ان کے کام کو دیکھ کر پہچانا جاسکتا ہے، نہ کہ ان کے اعلان کے ذریعے۔

ایک یادگار دن

29 فروری 1955 میری زندگی کا وہ دن تھا جس کو میں اپنے لیے ایک بر یک تھرو (break through) سے تعبیر کرتا ہوں ۔ اُس دن لکھنؤ کے امین الدولہ پارک میں جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام ایک عمومی اجتماع ہوا۔ اس موقع پر اسلام کے عقلی اثبات پر راقم الحروف کی ایک تقریر ہوئی۔ بعد کو جب اعلان کیا گیا کہ یہ تقریر چھپی ہوئی صورت میں یہاں بک اسٹال پر موجود ہے، تو لوگوں کا ہجوم اس کو لینے کے لیے بک اسٹال پر ٹوٹ پڑا۔ تقریر کے تمام مطبوعہ نسخے اُسی وقت فروخت ہو گئے ۔ یہ تقریر پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوئی ۔ اردو میں اس کا نام تھا ”نئے عہد کے دروازے پر“، ہندی میں ”نو یگ کے پرویش دوار پر“ اور انگریزی میں :

On the Threshold of A New Era

اس تقریر کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں اسلام کی دعوت کو عصری اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page