On the Threshold of A New Era
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۸
گئی تھی۔ یہ میری زندگی میں ایک انقلابی واقعہ تھا۔ اس واقعے نے میری آئندہ زندگی کا رخ متعین کر دیا۔ اب میں نے شعوری طور پر یہ طے کر لیا کہ مجھے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہے۔ اس کے بعد میں نے مذکورہ موضوع کا زیادہ گہرائی کے ساتھ مطالعہ شروع کر دیا۔ اس درمیان میں مقالہ یا پمفلٹ کی صورت میں بعض تحریریں شائع ہوئیں۔ مثلاً حقیقت کی تلاش“۔ یہ مقالہ 6 ستمبر 1958 کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یونین ہال میں پڑھا گیا، اور اس کے بعد وہ پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوا۔ اس موضوع پر میرے مطالعے کا ایک نتیجہ وہ تھا جو باقاعدہ کتاب کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ کتاب جو پہلی بار 1966 میں مجلس تحقیقات ونشریاتِ اسلام (ندوة العلما ء، لکھنؤ) سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کا اردو ٹائٹل ”مذہب اور جدید چیلنج“ تھا۔ بعد کو اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے کیا۔ یہ عربی ترجمہ پہلی بار 1969 میں کویت اور بیروت اور قاہرہ سے ”الاسلام یتحدیٰ“ کے نام سے چھپا۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر فریدہ خانم نے کیا، جو پہلی بار 1985 میں گاڈ ارائزز (God Arises) کے نام سے شائع ہوا۔
مذہب اور جدید چیلنج 1964 میں لکھ کر تیار ہوئی۔ میں نے اس کا مسودہ (manuscript) مجلس تحقیقات و نشریات اسلام (لکھنؤ) کے ذمے داروں کو برائے اشاعت دیا۔ چوں کہ اس کتاب میں بہت زیادہ سائنسی حوالے تھے، مجلس کے ذمے داروں نے چاہا کہ اشاعت سے پہلے وہ کسی ایکسپرٹ (expert) سے اس کی تصدیق حاصل کر لیں۔ اس مقصد کے لیے کتاب کے مسودے کو لکھنؤ کے ایک مسلم آئی اے ایس افسر کو دیا گیا۔ انھوں نے کتاب کے مسودے کو پڑھنے کے بعد مجلس کے نام ایک تحریر بھیجی۔ اس تحریر میں کتاب کے بارے میں منفی رائے دیتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ایسی ایک کتاب لکھنے کے لیے مصنف کا کریڈنشیل (credential) کیا ہے۔
مذکورہ مسلم افسر کی یہ تحریر مجھے دی گئی۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے تحریری صورت میں اس کا جواب دیا۔ میں نے اپنے جواب میں یہ لکھا کہ اس کتاب کے مصنف کا کریڈنشیل یہ ہے کہ اس موضوع پر پوری مسلم دنیا میں اب تک کوئی ایک کتاب بھی لکھی یا چھاپی نہیں گئی ہے۔ جدید تاریخ میں میں پہلا شخص ہوں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues