سوال وجواب
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۷
جواب: مذکورہ حدیث کا یہ مطلب لینا درست نہیں۔ یہ حدیث ایک وقتی مصلحت کو بتاتی ہے، وہ کسی عمومی اسلامی حکم کا بیان نہیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: لا فضل لعربي على عجمي، ولا لعجمي على عربي، ولا لأحمر على أسود، ولا لأسود على أحمر، إلا بالتقوى (مسند أحمد، رقم الحديث: 22872) یعنی نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر اور نہ ہی کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت ہے، سوا تقویٰ کے۔ الأئمة من قريش کا اگر وہ مطلب لیا جائے جو سائل نے لیا ہے تو دونوں حدیثوں میں تضاد واقع ہو جائے گا۔ اس لیے حدیث کا مذکورہ مفہوم لینا درست نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ حدیث صرف ایک وقتی مصلحت کو بتاتی ہے، نہ کہ شریعت کے کسی دائمی اصول کو۔ وہ مصلحت یہ ہے کہ سیاسی عہدے کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ایسے شخص کو عہدے دار بنایا جائے جس کے ساتھ قیادت کی روایات شامل ہوں۔ قدیم زمانے میں مخصوص اسباب کی بنا پر قبیلہ قریش کو عرب میں قیادت کا درجہ مل گیا تھا۔ اُس زمانے کے اہل عرب صرف قریش کی قیادت کو قبول کر سکتے تھے، کسی اور کی قیادت کو نہیں۔ الأئمة من قريش کی اس تاویل کی تائید ایک اور روایت سے ہوتی ہے۔ اس دوسری روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الناس تبع لقريش (صحیح مسلم، رقم الحديث: 1818) یعنی اہل عرب، قریش کے تابع ہیں۔ قریش کی قیادت کو وہ بہ آسانی قبول کر لیں گے، کسی اور کی قیادت کو قبول کرنا عربوں کے لیے عملاً ممکن نہیں۔ سوال: امت کے مختلف حلقے الگ الگ جو کام کر رہے ہیں، اُن سب کو یکساں طور پر درست مانتے ہوئے ان کا اعتراف کرنا چاہئے۔ ہر حلقہ کو صرف اپنا کام کرنا چاہئے۔ اُس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ دوسروں کے کام یا اُن کی فکر پر تنقید کرے۔
جواب: ہر فرقے کو درست ماننا اور اُس پر تنقید نہ کرنا، یہ کوئی صحیح مسلک نہیں۔ اس قسم کا مطالبہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حکم کو عملاً مستقل طور پر منسوخ کر دیا جائے۔ صحیح مسلک یہ ہے کہ تنقید کو صرف دلائل پر مبنی ہونا چاہئے، نہ کہ عیب جوئی اور الزام تراشی پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues