Al-Risala · November 2011 · page 38

سوال وجواب

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۸

جو چیز ممنوع ہے، وہ تشدد ہے۔ تنقیص (عیب جوئی) انفعالی تشدد (passive violence) ہے، اور جارحیت (agression) عملی تشدد (active violence)، اور یہ دونوں قسم کا تشدد اسلام میں حرام ہے۔ اگر تنقید (علمی تحلیل و تجزیہ) کو غلط قرار دیا جائے تو عمر بن عبدالعزیز سے لے کر آج تک کے تمام علماء کو غلط قرار دینا پڑے گا، کیوں کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ علماء امت کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ جس چیز کو انھوں نے قرآن اور سنت کی روشنی میں غلط سمجھا، اس کو انھوں نے کھل کر غلط قرار دیا۔ سوال: دعوت الی اللہ کا کام امت کو ساتھ لے کر ہی ہو سکتا ہے۔ داعی اگر امت کے درمیان خوش نام نہ رہے تو امت اس کا ساتھ نہیں دے گی، اور داعی کو اگر امت کی حمایت حاصل نہ رہے تو دعوت کا کام موثر طور پر انجام دینا ممکن نہیں، اس لیے داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ امت کے مزاج کی رعایت کرتے ہوئے کام کرے۔ اگر کوئی داعی، امت کے درمیان نیک نام نہ رہے تو جو لوگ ایسے داعی کا ساتھ دیں گے، وہ بھی موثر دعوت کا کام کرنے میں ناکام رہیں گے۔

جواب: اس سوال کے جواب میں، میں دو باتیں کہوں گا— ایک، یہ کہ دعوت کا کام اللہ کا کام ہے۔ وہ صرف اللہ کی نصرت سے انجام پاتا ہے۔ نصرت الہی کے سوا کوئی اور چیز دعوت الی اللہ کے کام کو کامیابی تک پہنچانے والی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی حمایت پر بھروسہ کرنا اپنی نوعیت کے اعتبار سے شرک کا درجہ رکھتا ہے۔ قرآن میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ دعوت کا کام خدا کی توفیق پر چلتا ہے، نہ کہ کسی غیر خدا کی توفیق پر۔ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کو سرے سے یہ طاقت ہی حاصل نہیں کہ وہ کسی کام کو کامیاب یا نا کام کر سکے۔

قرآن کے مطابق، داعی کے اندر جو صفات مطلوب ہیں، وہ صرف دو ہیں— ہیں—نُصح اور امانت (إني لكم ناصح أمين)۔ نُصح کا مطلب یہ ہے کہ داعی کسی بھی قسم کے ذاتی یا قومی مفاد کے بجائے صرف مدعو کی خیر خواہی کے لیے کام کرے۔ امانت کا مطلب یہ ہے کہ داعی اپنی کوئی بات دعوت میں شامل نہ کرے، وہ صرف اُس چیز کا مبلغ بنے جو اللہ نے اپنی کتاب میں بتائی ہے۔ داعی کے لیے کسی اور مصلحت کا اعتبار کرنا، رکون (11:113) ہے، اور رکون داعی کے لیے صرف ایک غیر مطلوب صفت ہے، وہ کوئی مطلوب صفت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page